Posts

Showing posts from November, 2025

پاکستان اور روس کا مسابقتی تعاون: منڈیوں میں شفافیت و مؤثر نگرانی کی جانب ایک قدم

Image
کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان اور روس کی فیڈرل اینٹی موناپولی سروس نے مسابقتی پالیسی میں باہمی تعاون بڑھانے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے، جو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور ضابطہ جاتی روابط کے فروغ کی سمت ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ اس معاہدے پر دستخط روس۔پاکستان بین الحکومتی کمیشن کے دسویں اجلاس کے دوران چیئرمین سی سی پی کبیر احمد صدیق اور ایف اے ایس کے ڈپٹی ہیڈ اینڈرے سیگینوف نے کیے۔ اس MoU کا مقصد ایسی پیشہ ورانہ شراکت کو مضبوط بنانا ہے جس کے تحت کارٹل سازی، مارکیٹ میں غلبے کے غلط استعمال، مرجر کنٹرول، اور غیر حقیقی مارکیٹنگ جیسے شعبوں میں بہتر رابطہ اور تعاون ممکن ہو سکے۔ معاہدے کے تحت دونوں ادارے باقاعدہ ملاقاتوں، مشاورت، ورکشاپس، ماہرین کے تبادلے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کے ذریعے ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کریں گے۔ سی سی پی کے مطابق ایف اے ایس ایک وسیع تر مینڈیٹ اور تقریباً ایک ہزار عملے پر مشتمل بڑے ڈھانچے کے ساتھ کام کرتا ہے، جبکہ پاکستان کا ادارہ اسلام آباد میں نسبتاً محدود افرادی قوت کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ روسی ایجنسی کے علاقائی دفاتر بھی مارکیٹ میں عدم شفا...

پاکستان اور ایران کا انسدادِ دہشت گردی میں نیا تعاون: خطے میں استحکام کی مشترکہ کوشش

Image
پاکستان اور ایران نے ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے، جب آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی اردشیر لاریجانی نے جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں ملاقات کی۔ اس موقع پر COAS منیر نے علاقائی امن کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کو دہراتے ہوئے ایران کے ساتھ قریبی تعاون کی اہمیت پر زور دیا، خصوصاً ایسے وقت میں جب خطے کی جیو اسٹریٹیجک صورتحال مسلسل تبدیل ہو رہی ہے۔ لاریجانی نے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے مشترکہ سکیورٹی رابطوں کو مزید مضبوط کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں انسدادِ دہشت گردی کے لیے مربوط اقدامات، دفاعی اور انٹیلی جنس تعاون میں اضافے، اور سفارتی سطح پر رابطوں کے فروغ جیسے اہم نکات زیرِ بحث آئے۔ سرحدی علاقوں میں موجود عسکریت پسند خطرات اور علاقائی عدمِ استحکام کے تناظر میں دونوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں حکمتِ عملی زیادہ منظم، ہم آہنگ اور دیرپا بنیادوں پر استوار کی جائے گی۔ اس کا مقصد نہ صرف فوری سکیورٹی خدشات کا حل تلاش کرنا ہے بلکہ ایسی...

سمندری تعاون کے نئے امکانات اور خطے میں استحکام کی تلاش

Image
اسلام آباد میں پاکستانی اور بنگلہ دیشی بحری حکام کی ملاقات کو خطے میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی تقاضوں کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ملاقات کے دوران دونوں ممالک کی بحری قیادت نے آپریشنل تعاون بڑھانے، معلومات کے تبادلے کو بہتر بنانے اور علاقائی سیکیورٹی میکنزم کو مضبوط کرنے پر اتفاق کیا۔ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک نے دفاعی اور اقتصادی تعلقات کو ازسرِنو فعال بنانے کی کوشش کی ہے، جو ان روابط کے تسلسل کی علامت ہے۔ خلیجی اور بحرِ ہند کی بدلتی ہوئی صورتحال میں مشترکہ بحری اقدامات اور قریبی ہم آہنگی ایک عملی ضرورت بنتی جا رہی ہے۔ رائے کے مطابق، یہ ملاقات دونوں ممالک کے لیے نہ صرف پیشہ ورانہ روابط میں اضافہ لانے کا موقع ہے بلکہ مستقبل میں اسٹریٹیجک تعاون کے نئے پہلو اجاگر کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ پاک۔بنگلہ دیش بحری تعاون میں اضافہ خطے کی مجموعی بحری سلامتی پر مثبت اثرات مرتب کر سکتا ہے، بشرطیکہ اس پر مستقل طور پر کام کیا جائے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اگرچہ دونوں ممالک کی تاریخ پیچیدہ رہی ہے، تاہم موجودہ حالات میں تعلقات کی نئی جہتیں کھل رہی ہیں۔ یہ پیش رفت...

میں پاکستان کا مطالبہ: موسمیاتی انصاف کی عملی سمت یا سفارتی کوشش؟

Image
مبصرین کے مطابق پاکستان کا COP30 میں یہ موقف کہ کمزور ممالک کے لیے موسمیاتی مالی معاونت تیز رفتار، گرینٹ پر مبنی اور قابلِ پیش گوئی ہونی چاہیے، ایک ایسے مرحلے پر سامنے آیا ہے جب جنوبی ایشیا سمیت دنیا کے متعدد خطے شدید موسمی دباؤ میں ہیں۔ پاکستان کے ذمہ داران نے بارہا اس بات پر زور دیا کہ 2022 اور 2025 کی تباہ کن سیلابوں نے معاشی ڈھانچہ اور سماجی حفاظت کے نظام کو بری طرح متاثر کیا، جس کے بعد قومی وسائل ناکافی محسوس ہو رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جب تباہی کے بعد بحالی کا مرحلہ قرضوں کے ذریعے طے ہو، تو متاثرہ ممالک مزید غیر یقینی معاشی صورتحال کا شکار ہوتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ Loss and Damage کا موثر اور فعال ہونا پاکستان سمیت دیگر کمزور ممالک کے لیے رکاوٹ نہیں بلکہ بقا کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ کئی حلقوں کے مطابق، نئے فنڈ کے ساتھ تیز ڈسبرسمنٹ، سادہ درخواستیں اور کم شرائط جیسے راستے اختیار کیے جائیں تو امداد زیادہ تیزی سے ضرورت مند طبقات تک پہنچ سکتی ہے۔ اس کے ساتھ یہ نکتہ بھی نمایاں ہے کہ بچوں اور نوجوانوں کی آبادی پر تباہ کاریوں کے اثرات بدستور بڑھ رہے ہیں، جس سے تعلیم، صحت ...

*پاکستان بھارت تعلقات: ٹوٹا ہوا ماضی، غیر یقینی مستقبل*

Image
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پی آئی ڈی ای) نے جمعرات کو سابق وزیر خارجہ اور سفیر اعزاز احمد چودھری کی تازہ ترین کتاب "پاکستان بھارت تعلقات: ٹوٹا ہوا ماضی، غیر یقینی مستقبل" پر ایک پیشکش اور بحث کی میزبانی کی۔ *کتاب کا تعارف* پی آئی ڈی ای کے وائس چانسلر ڈاکٹر ندیم جاوید نے سفیر چودھری کو ایک تجربہ کار سفارت کار کے طور پر متعارف کرایا، جس کا ممتاز کیریئر دی ہیگ، نیویارک، واشنگٹن اور اسلام آباد میں پوسٹنگ پر محیط ہے۔ *کتاب کا محور* سفیر چودھری نے کہا کہ ان کی کتاب روایتی یادداشت سے ہٹ کر ہے اور اس کی بجائے ایک منظم تجزیاتی تشخیص پیش کرتی ہے کہ پاکستان اور بھارت آزادی کے تقریبا آٹھ دہائیوں بعد بھی دشمنی میں کیوں بند ہیں۔ *تنازعہ کے بنیادی محرکات* چودھری نے چار بنیادی محرکات کی نشاندہی کی جو تصادم کا باعث بنتے ہیں: برطانوی حکمرانی کے آخری سالوں سے موروثی بد اعتمادی؛ متنازع جموں و کشمیر کا تنازعہ، جو تقسیم کے فورا بعد بھڑک اٹھا؛ دہشت گردی کی سیاست، جس میں واقعات کو بین الاقوامی رائے کو شکل دینے کے لئے پاکستان سے منسوب کیا جاتا ہے؛ اور علاقائی غلبہ کے لئے بھارت کی تلاش، ج...

ICAST-2025: پاکستان میں عالمی خلائی تعاون کے ایک نئے دور کی شروعات

Image
اسلام آباد میں ہونے والی ICAST-2025 کانفرنس کو پاکستان کی سائنسی اور تحقیقی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ SUPARCO اور انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس ٹیکنالوجی کی مشترکہ میزبانی نہ صرف ملکی اداروں کی استعداد کار کو ظاہر کرتی ہے بلکہ اس امر کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر خلائی سائنس سے متعلق مباحثوں میں مزید فعال کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ دو ہزار سے زائد شرکاء اور متعدد ممالک کے وفود کی شرکت اس بات کا مظہر ہے کہ دنیا خلائی سائنس، جیو اسپیشل ٹیکنالوجیز اور پائیدار ترقی جیسے موضوعات پر پاکستان کے پلیٹ فارم کو اہمیت دے رہی ہے۔ اگرچہ اس قسم کے ایونٹس کی اصل اہمیت اس کے نتائج اور مستقبل کے اشتراکات سے جڑی ہوتی ہے، تاہم یہ ایک مثبت پیش رفت ضرور ہے۔ کانفرنس کے دوران مختلف سیشنز، سیمینارز، ماسٹر کلاسز اور ٹیکنیکل فورمز کا انعقاد اس بات کا اشارہ ہے کہ ایونٹ محض رسمی سرگرمی نہیں بلکہ علم و تحقیق کے زیادہ گہرے تبادلے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ سیٹلائٹ ٹیکنالوجی، موسمیاتی نگرانی، AI پر مبنی حل اور جیو اسپیشل انٹیلی جنس جیسے موضوعات موجودہ دور میں خاص اہمیت رکھتے ہیں، اور ان پ...

افغان عسکریت پسندی پر تشویش: پاکستان اور ایران کا سفارتی مکالمہ اور علاقائی استحکام کی نئی جہت"

Image
اسلام آباد میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور ایران کے نائب اسپیکر علی نکزاد کی ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب پاکستان ایک بار پھر افغان سرزمین سے مبینہ عسکریت پسند حملوں کے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ حالیہ خودکش دھماکے کے بعد، جس کی ذمہ داری افغان سرزمین پر موجود تحریک طالبان پاکستان (TTP) پر عائد کی گئی، پاکستان نے ایک مرتبہ پھر کابل حکام سے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ ایاز صادق کا مؤقف کہ “افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے” اس خطے کی سلامتی کی نازک صورتحال کو اجاگر کرتا ہے، جہاں امن کی بحالی کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔ ایران، جو افغانستان اور پاکستان دونوں کا ہمسایہ ہے، ایک بار پھر ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کر رہا ہے۔ حالیہ سرحدی جھڑپوں اور استنبول میں ناکام مذاکرات کے بعد ایران کی یہ کوشش خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک مثبت اشارہ سمجھی جا رہی ہے۔ علی نکزاد کی قیادت میں آنے والے ایرانی وفد نے نہ صرف تعزیت اور اظہارِ یکجہتی کیا بلکہ پارلیمانی و اقتصادی تعاون کے فروغ پر بھی زور دیا۔ یہ مکالمہ پاکستان کے لیے اس لحاظ سے اہم ہے کہ وہ...

اظہارِ رائے اور ریاستی احترام کے درمیان سہیل آفریدی کیس کا غیر جانبدار جائزہ۔

Image
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں سے متعلق بیانات پر درج مقدمے نے ملکی سیاسی و قانونی فضا میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کی جانب سے یہ مقدمہ اس وقت درج کیا گیا جب آفریدی نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں ریاستی اداروں پر تنقید کی۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ ان کے بیانات “جھوٹے، توہین آمیز اور گمراہ کن” تھے جنہیں سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر پھیلایا گیا۔ معاملے کو ایک منظم کوشش قرار دیا جا رہا ہے جس کا مقصد مبینہ طور پر عوامی اعتماد کو متاثر کرنا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان میں سیاسی درجہ حرارت پہلے ہی بلند ہے اور مختلف سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر ریاستی اداروں کے کردار سے متعلق بیانات دے رہی ہیں۔ سہیل آفریدی، جو حال ہی میں وزیراعلیٰ بنے ہیں، ایک ایسے وقت میں زیرِ بحث آئے ہیں جب خیبر پختونخوا میں سکیورٹی صورتحال پیچیدہ ہے اور وفاق و صوبے کے تعلقات میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ مبصرین کے مطابق، یہ مقدمہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان میں سیاسی اظہار اور ریاستی حساسیت کے درمیان فاصلہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ قانون...

*کراچی سیف سٹی پراجیکٹ: 16 دن میں 11 ملزمان گرفتار، 19 دن میں 31 گاڑیاں برآمد*

Image
تعارف کراچی میں سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت نصب جدید کیمروں کی مدد سے 16 دنوں میں 11 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔ اسی منصوبے کے تحت شہر میں نصب ماڈرن کیمروں کی مدد سے 19 دنوں میں 31 چوری شدہ، چھینے ہوئے، جعلی نمبر پلیٹوں والی یا ’’رجسٹریشن کے لئے درخواست دی‘‘ والی گاڑیاں بھی برآمد کی گئیں۔ سیف سٹی اتھارٹی کی کامیابی ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) سیف سٹی اتھارٹی آصف اعجاز شیخ نے ایکسپریس ٹریبون کو بتایا کہ کراچی میں سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت نصب فیشل ریکگنیشن (ایف آر) کیمروں اور سیف سٹی ایمرجنسی رسپانس وہیکل کی مدد سے 20 اکتوبر سے 6 نومبر کے درمیان 11 ملزمان کو گرفتار کر کے متعلقہ پولیس کے حوالے کیا گیا۔ گرفتار ملزمان گرفتار ملزمان میں مفرور ملزم عبدالعظیم ولد لیاقت خان، سید سجاد حسین ولد محمد اکرم، عبدالمنان ولد محمد ارشد، علی عباس ولد غلام عباس، اطہر حسین ولد محمد حسین خان، شوکت علی ولد شاکر محمد، واجد خان ولد صاحب روز داد، خادم حسین چانڈیو، فیضان ولد نور محمد، شاہد اللہ ولد نعمت اللہ، اور نعمان ولد عبدالمجید شامل ہیں۔ اہم کیسز - *عبدالعظیم*: سیف سٹی ایمرجنسی رسپانس وہیکل کی مدد سے گرفتار کیا گیا اور...

پاکستان–قطر تعلقات: دفاعی تعاون سے علاقائی شراکت داری تک

Image
صدر آصف علی زرداری اور قطری امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی کی دوحہ میں ملاقات بظاہر ایک سفارتی سرگرمی تھی، مگر اس کے اثرات خطے کی وسیع تر سیاست پر نمایاں ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے دفاعی تعاون اور دفاعی پیداوار میں اشتراک کی پیشکش ظاہر کرتی ہے کہ اسلام آباد اپنی علاقائی پالیسی میں تزویراتی تنوع پیدا کر رہا ہے۔ قطر کی جانب سے اس تجویز پر مثبت ردعمل اس امر کا مظہر ہے کہ خلیجی ممالک پاکستان کے تجربات اور دفاعی صلاحیتوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ ملاقات اس وقت ہوئی جب پاکستان نے حال ہی میں سعودی عرب کے ساتھ ایک تاریخی دفاعی معاہدہ کیا، جس نے خطے میں پاکستان کے کردار کو مزید مؤثر بنا دیا ہے۔ دونوں رہنماؤں کی گفتگو صرف دفاع تک محدود نہیں رہی بلکہ ثقافتی، معاشی اور سیاسی تعاون کے پہلوؤں پر بھی مرکوز رہی۔ قطر، جو ایک عالمی سفارتی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے، پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو کثیر الجہتی بنیادوں پر استوار کرنا چاہتا ہے۔ زرداری کی جانب سے قطر کے ’’انسانی سفارتکاری‘‘ میں کردار کو سراہنا اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان قطر کو نہ صرف ایک خلیجی ریاست بلکہ ایک بین الاقوامی شراکت دا...

پاکستان اور ترکیہ کا نیا اقتصادی اشتراک برادرانہ تعلقات سے تجارتی شراکت تک.

Image
پاکستان اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی تعلقات ہمیشہ سے باہمی احترام، اعتماد اور اسلامی اخوت پر مبنی رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے وزرائے تجارت کی حالیہ ملاقات نے اس تعلق کو مزید وسعت دینے کے عزم کو مضبوط کیا ہے۔ استنبول میں ہونے والی اس ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، اور صنعتی ترقی کے نئے مواقع پر غور کیا گیا، جو دونوں ممالک کے اقتصادی تعاون کو ایک نئی سمت دے سکتا ہے۔ ترکیہ کی جانب سے پاکستان کی تجاویز پر مثبت رویہ ظاہر کرنا اس بات کا عندیہ ہے کہ دونوں ممالک مستقبل میں باہمی تجارت کے حجم کو بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ پاکستانی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے ترکیہ کو بتایا کہ حکومت اصلاحات، شفاف پالیسیوں، اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق، پاکستان اب ایک ابھرتی ہوئی منڈی کے طور پر ترکیہ کے لیے پرکشش مواقع فراہم کر رہا ہے، خاص طور پر صنعتی پیداوار، ٹیکسٹائل، اور توانائی کے شعبوں میں۔ اگر یہ وعدے عملی جامہ پہن لیں تو ترکیہ کی سرمایہ کاری پاکستان کے صنعتی ڈھانچے کو مضبوط بنا سکتی ہے اور دونوں ممالک کے لیے طویل مدتی اقتصادی فائدہ پیدا کر سکتی ہے۔ ترکیہ کے وزیرِ...