پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی خطرے میں، نئے سرحدی حملوں نے کشیدگی بڑھا دی
پاکستان اور افغانستان کے درمیان مارچ ۲۰۲۶ میں ہونے والی جنگ بندی اب خطرے میں پڑ گئی ہے۔ ۲۷ اپریل ۲۰۲۶ کو افغانستان کے صوبہ کنڑ میں پاکستانی حملوں کے الزام کے بعد ۴ افراد ہلاک اور ۴۵ سے زائد زخمی ہو گئے۔ ان حملوں نے ایک بار پھر دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی کو انتہائی سطح پر پہنچا دیا ہے اور عالمی طاقتوں کی ثالثی میں ہونے والی کوششوں کو شدید چیلنج کا سامنا ہے۔ صوبہ کنڑ میں پاکستانی حملوں میں کتنے سویلینز ہلاک ہوئے؟ ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز کی طرف سے کیے جانے والے مارٹر اور راکٹ حملوں میں کم از کم ۴ افراد جاں بحق اور ۴۵ کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ طالبان کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت کے مطابق زخمی ہونے والوں میں طالبات، خواتین اور بچے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کنڑ کے دارالحکومت اسدآباد میں واقع سید جمال الدین افغانی یونیورسٹی کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس میں ۳۰ سے زائد طلبہ زخمی ہوئے۔ تاہم پاکستان نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے "واضح جھوٹ" قرار دیا ہے۔ پاکستان افغانستان پر ٹی ٹی پی کو پناہ دینے کا الزام کیوں لگاتا ہے؟ پاکستان کا کہنا ہے کہ افغانستان کی موجودہ طال...