افغان عسکریت پسندی پر تشویش: پاکستان اور ایران کا سفارتی مکالمہ اور علاقائی استحکام کی نئی جہت"
اسلام آباد میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور ایران کے نائب اسپیکر علی نکزاد کی ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب پاکستان ایک بار پھر افغان سرزمین سے مبینہ عسکریت پسند حملوں کے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ حالیہ خودکش دھماکے کے بعد، جس کی ذمہ داری افغان سرزمین پر موجود تحریک طالبان پاکستان (TTP) پر عائد کی گئی، پاکستان نے ایک مرتبہ پھر کابل حکام سے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ ایاز صادق کا مؤقف کہ “افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے” اس خطے کی سلامتی کی نازک صورتحال کو اجاگر کرتا ہے، جہاں امن کی بحالی کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
ایران، جو افغانستان اور پاکستان دونوں کا ہمسایہ ہے، ایک بار پھر ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کر رہا ہے۔ حالیہ سرحدی جھڑپوں اور استنبول میں ناکام مذاکرات کے بعد ایران کی یہ کوشش خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک مثبت اشارہ سمجھی جا رہی ہے۔ علی نکزاد کی قیادت میں آنے والے ایرانی وفد نے نہ صرف تعزیت اور اظہارِ یکجہتی کیا بلکہ پارلیمانی و اقتصادی تعاون کے فروغ پر بھی زور دیا۔ یہ مکالمہ پاکستان کے لیے اس لحاظ سے اہم ہے کہ وہ علاقائی سلامتی کے مسائل کو براہِ راست متعلقہ ممالک کے ساتھ گفت و شنید کے ذریعے حل کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔
دوسری جانب، پاکستان اور ایران کے درمیان بڑھتا ہوا پارلیمانی رابطہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ دونوں ممالک مشترکہ مذہبی، ثقافتی اور تاریخی بنیادوں پر ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔ اگر اس مکالمے کو عملی تعاون میں ڈھالا جائے تو یہ خطے میں ایک متوازن اور پائیدار سفارتی ماحول پیدا کر سکتا ہے۔ تاہم، حقیقی پیش رفت اسی وقت ممکن ہوگی جب افغانستان کے اندرونی امن کے لیے تمام فریق مشترکہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور دہشت گردی کے خطرات کو علاقائی مسئلہ سمجھ کر مشترکہ حکمت عملی اپنائیں۔
Comments
Post a Comment