*کراچی سیف سٹی پراجیکٹ: 16 دن میں 11 ملزمان گرفتار، 19 دن میں 31 گاڑیاں برآمد*
تعارف
کراچی میں سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت نصب جدید کیمروں کی مدد سے 16 دنوں میں 11 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔ اسی منصوبے کے تحت شہر میں نصب ماڈرن کیمروں کی مدد سے 19 دنوں میں 31 چوری شدہ، چھینے ہوئے، جعلی نمبر پلیٹوں والی یا ’’رجسٹریشن کے لئے درخواست دی‘‘ والی گاڑیاں بھی برآمد کی گئیں۔
سیف سٹی اتھارٹی کی کامیابی
ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) سیف سٹی اتھارٹی آصف اعجاز شیخ نے ایکسپریس ٹریبون کو بتایا کہ کراچی میں سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت نصب فیشل ریکگنیشن (ایف آر) کیمروں اور سیف سٹی ایمرجنسی رسپانس وہیکل کی مدد سے 20 اکتوبر سے 6 نومبر کے درمیان 11 ملزمان کو گرفتار کر کے متعلقہ پولیس کے حوالے کیا گیا۔
گرفتار ملزمان
گرفتار ملزمان میں مفرور ملزم عبدالعظیم ولد لیاقت خان، سید سجاد حسین ولد محمد اکرم، عبدالمنان ولد محمد ارشد، علی عباس ولد غلام عباس، اطہر حسین ولد محمد حسین خان، شوکت علی ولد شاکر محمد، واجد خان ولد صاحب روز داد، خادم حسین چانڈیو، فیضان ولد نور محمد، شاہد اللہ ولد نعمت اللہ، اور نعمان ولد عبدالمجید شامل ہیں۔
اہم کیسز
- *عبدالعظیم*: سیف سٹی ایمرجنسی رسپانس وہیکل کی مدد سے گرفتار کیا گیا اور آرام باغ پولیس کے حوالے کیا گیا۔ 2024 میں اس کے خلاف فساد، نقصان، دھمکی اور ٹیلی گراف ایکٹ کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج تھا۔ اس سے قبل 2022 سے 2025 کے درمیان دہشت گردی، اقدام قتل، پولیس مقابلہ، فساد اور نقصان کے چھ کیسز مختلف تھانوں میں درج تھے۔
- *سید سجاد حسین*: فیشل ریکگنیشن کیمرے کی مدد سے گرفتار کیا گیا اور ایمرجنسی رسپانس وہیکل میں الرٹ ملنے کے بعد آرام باغ پولیس کے حوالے کیا گیا۔ 2017 میں نبی بخش اور گارڈن پولیس اسٹیشن میں اغوا، ڈکیتی اور غیر قانونی اسلحہ کے دو کیسز درج تھے۔
- *عبدالمنان*: فیشل ریکگنیشن کیمرے کی مدد سے چوری شدہ موٹر سائیکل سمیت گرفتار کیا گیا اور آرام باغ پولیس کے حوالے کیا گیا۔
- *علی عباس*: ایمرجنسی رسپانس وہیکل میں الرٹ ملنے کے بعد گرفتار کیا گیا اور آرام باغ پولیس کے حوالے کیا گیا۔ کھوکھرا پار پولیس اسٹیشن میں جعلی سازی اور دیگر الزامات کا مقدمہ درج تھا۔
- *اطہر حسین*: فیشل ریکگنیشن کیمرے کی مدد سے گرفتار کیا گیا اور ایمرجنسی رسپانس وہیکل میں الرٹ ملنے کے بعد آرام باغ پولیس کے حوالے کیا گیا۔ اس کے خلاف بغدادی پولیس اسٹیشن میں دہشت گردی، پولیس مقابلہ، اقدام قتل اور غیر قانونی اسلحہ کے دو کیسز درج تھے۔
- *شوکت علی*: فیشل ریکگنیشن کیمرے کی مدد سے گرفتار کیا گیا اور ایمرجنسی رسپانس وہیکل میں الرٹ ملنے کے بعد آرام باغ پولیس کے حوالے کیا گیا۔ شاہ فیصل کالونی پولیس اسٹیشن میں منشیات کا مقدمہ درج تھا۔
گاڑیاں برآمد
ماڈرن کیمروں کی مدد سے 19 دنوں میں 31 چوری شدہ، چھینے ہوئے، جعلی نمبر پلیٹوں والی یا ’’رجسٹریشن کے لئے درخواست دی‘‘ والی گاڑیاں بھی برآمد کی گئیں۔
نتیجہ
کراچی سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت نصب جدید کیمروں اور ایمرجنسی رسپانس وہیکل کی مدد سے شہر میں جرائم کے خلاف نمایاں کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں۔ 16 دنوں میں 11 ملزمان کی گرفتاری اور 19 دنوں میں 31 گاڑیوں کی برآمدگی اس منصوبے کی افادیت کا واضح ثبوت ہے۔ شہر کے عوام کے لئے محفوظ ماحول فراہم کرنے کی یہ ایک بڑی پیش رفت ہے، اور امید ہے کہ مستقبل میں بھی اس طرح کی کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ کراچی کو ایک محفوظ اور پرامن شہر بنایا جا سکے۔
Comments
Post a Comment