سی پیک 2.0: وسعت پاتا پاک چین تعاون اور بدلتا ہوا بیانیہ
چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت حالیہ مہینوں میں سامنے آنے والی سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ منصوبہ محض انفراسٹرکچر تک محدود نہیں رہا بلکہ اب تعلیم، ٹیکنالوجی، دفاع، توانائی اور افرادی وسائل کی ترقی تک پھیل چکا ہے۔ پانڈا بانڈ کے اجرا کی تیاری، ڈیجیٹل تعاون کے لیے 24 معاہدے، توانائی کی ترسیل کے لیے نارتھ گرڈ کی تکمیل، اور طلبہ و اساتذہ کے تبادلے جیسے اقدامات سی پیک 2.0 کے ایک زیادہ متنوع خدوخال کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان پیش رفتوں کو پاکستان اور چین کے دیرینہ تعلقات کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جنہیں دونوں ممالک اسٹریٹجک شراکت داری کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔ اسلام آباد میں منعقدہ 9ویں سی پیک میڈیا فورم نے اس تعاون کے ایک اور اہم پہلو، یعنی بیانیہ اور عوامی تاثر، کو نمایاں کیا۔ فورم میں حکومتی نمائندوں، سفارتکاروں اور صحافیوں نے اس بات پر زور دیا کہ سی پیک سے متعلق معلومات کو حقائق کی بنیاد پر پیش کرنا اور غلط معلومات کا بروقت جواب دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔ فیکٹ چیک فورم کی تجویز اور میڈیا تعاون کو وسعت دینے کی بات اس اعتراف کی علامت ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی ص...