پاکستان اور روس کا مسابقتی تعاون: منڈیوں میں شفافیت و مؤثر نگرانی کی جانب ایک قدم

کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان اور روس کی فیڈرل اینٹی موناپولی سروس نے مسابقتی پالیسی میں باہمی تعاون بڑھانے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے، جو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور ضابطہ جاتی روابط کے فروغ کی سمت ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ اس معاہدے پر دستخط روس۔پاکستان بین الحکومتی کمیشن کے دسویں اجلاس کے دوران چیئرمین سی سی پی کبیر احمد صدیق اور ایف اے ایس کے ڈپٹی ہیڈ اینڈرے سیگینوف نے کیے۔ اس MoU کا مقصد ایسی پیشہ ورانہ شراکت کو مضبوط بنانا ہے جس کے تحت کارٹل سازی، مارکیٹ میں غلبے کے غلط استعمال، مرجر کنٹرول، اور غیر حقیقی مارکیٹنگ جیسے شعبوں میں بہتر رابطہ اور تعاون ممکن ہو سکے۔


معاہدے کے تحت دونوں ادارے باقاعدہ ملاقاتوں، مشاورت، ورکشاپس، ماہرین کے تبادلے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کے ذریعے ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کریں گے۔ سی سی پی کے مطابق ایف اے ایس ایک وسیع تر مینڈیٹ اور تقریباً ایک ہزار عملے پر مشتمل بڑے ڈھانچے کے ساتھ کام کرتا ہے، جبکہ پاکستان کا ادارہ اسلام آباد میں نسبتاً محدود افرادی قوت کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ روسی ایجنسی کے علاقائی دفاتر بھی مارکیٹ میں عدم شفافیت اور گمراہ کن مارکیٹنگ کی روک تھام میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں، جس کا اشتراک پاکستان کے لیے نئی سیکھ فراہم کر سکتا ہے۔


سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ یہ شراکت ضابطہ جاتی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے اور نفاذ کی صلاحیت بڑھانے میں مدد دے گی، جس سے دونوں ملکوں کی منڈیوں میں صحت مند مسابقت اور صارف دوست ماحول کے فروغ کی توقع کی جا رہی ہے۔ معاہدے کے تحت جلد مشترکہ سیشن منعقد کیے جائیں گے تاکہ علم و تجربے کا تبادلہ وسیع ہو اور ایسے طریقہ کار اختیار کیے جا سکیں جو طویل المدت بنیادوں پر مارکیٹ کی بہتری میں معاون ثابت ہوں۔

Comments

Popular posts from this blog

محمد عامر کی ایک بار پھر کاؤنٹی کرکٹ میں واپسی امیدیں اور خدشات

سوڈان میں اخوان المسلمون کی پابندی: ریاستی استحکام کے لیے ایک تاریخی فیصلہ

ٹرمپ کی کامیابی کا راز: خلیجی اتحادیوں کا تحفظ کیوں ضروری ہے؟