’بورڈ آف پیس‘ میں پاکستان کی شمولیت: سفارتی موقع یا محتاط آزمائش؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے متعارف کرائے گئے نئے عالمی فورم ’بورڈ آف پیس‘ میں پاکستان کو بانی اراکین میں شامل کیا جانا بظاہر ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر 26 ممالک کی شمولیت کے ساتھ اس پلیٹ فارم کا قیام ایسے وقت میں ہوا ہے جب دنیا مختلف خطوں میں تنازعات، بالخصوص غزہ جنگ اور بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی کا سامنا کر رہی ہے۔ پاکستان کی شمولیت کو بعض حلقے اس کے روایتی امن پسند مؤقف اور ثالثی کے کردار کے تسلسل کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جبکہ کچھ تجزیہ کار اسے ایک علامتی قدم قرار دیتے ہیں جس کے عملی نتائج کا انحصار اس فورم کے مستقبل کے کردار پر ہوگا۔ اس پیش رفت کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ یورپ کے بڑے ممالک، جن میں فرانس، جرمنی اور برطانیہ شامل ہیں، اس ’بورڈ آف پیس‘ کا حصہ نہیں بنے۔ یہ غیر موجودگی ٹرمپ انتظامیہ اور یورپی قیادت کے درمیان پالیسی اختلافات کی عکاسی کرتی ہے، جو اس فورم کی عالمی نمائندگی اور اثر و رسوخ پر سوالات اٹھاتی ہے۔ ایسے میں پاکستان، ترکی، ارجنٹینا اور دیگر ترقی پذیر یا ابھرتی ہوئی معیشتوں کی شمولیت فورم کو ایک مختلف نوعی...