پاکستان اور ایران کا انسدادِ دہشت گردی میں نیا تعاون: خطے میں استحکام کی مشترکہ کوشش

پاکستان اور ایران نے ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے، جب آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی اردشیر لاریجانی نے جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں ملاقات کی۔ اس موقع پر COAS منیر نے علاقائی امن کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کو دہراتے ہوئے ایران کے ساتھ قریبی تعاون کی اہمیت پر زور دیا، خصوصاً ایسے وقت میں جب خطے کی جیو اسٹریٹیجک صورتحال مسلسل تبدیل ہو رہی ہے۔ لاریجانی نے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے مشترکہ سکیورٹی رابطوں کو مزید مضبوط کرنے کی خواہش ظاہر کی۔


دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں انسدادِ دہشت گردی کے لیے مربوط اقدامات، دفاعی اور انٹیلی جنس تعاون میں اضافے، اور سفارتی سطح پر رابطوں کے فروغ جیسے اہم نکات زیرِ بحث آئے۔ سرحدی علاقوں میں موجود عسکریت پسند خطرات اور علاقائی عدمِ استحکام کے تناظر میں دونوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں حکمتِ عملی زیادہ منظم، ہم آہنگ اور دیرپا بنیادوں پر استوار کی جائے گی۔ اس کا مقصد نہ صرف فوری سکیورٹی خدشات کا حل تلاش کرنا ہے بلکہ ایسی پالیسی بنانا بھی ہے جو دونوں ریاستوں کے لیے طویل مدتی استحکام کا ذریعہ ہو۔


حالیہ برسوں میں دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات میں واضح گرمجوشی دیکھنے میں آئی ہے۔ مختلف اعلیٰ سطحی ملاقاتوں، سرحدی رابطہ کاری کے نئے طریقہ کار، اور دفاعی تعاون بڑھانے کے اعلانات نے اس پیش رفت کو تقویت دی ہے۔ موجودہ ملاقات اسی سلسلے کا تسلسل ہے اور یہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اسلام آباد اور تہران نہ صرف سکیورٹی مسائل پر مشترکہ فریم ورک تشکیل دے رہے ہیں بلکہ مستقبل میں معاشی، سفارتی اور سرحدی انتظام کے شعبوں میں بھی تعاون کے مزید امکانات تلاش کرنا چاہتے ہیں۔ یہ پیش رفت خطے میں استحکام کے لیے ایک اہم قدم تصور کی جا رہی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

محمد عامر کی ایک بار پھر کاؤنٹی کرکٹ میں واپسی امیدیں اور خدشات

سوڈان میں اخوان المسلمون کی پابندی: ریاستی استحکام کے لیے ایک تاریخی فیصلہ

ٹرمپ کی کامیابی کا راز: خلیجی اتحادیوں کا تحفظ کیوں ضروری ہے؟