ناممکن میز پر: عالمی سفارت کاری کا پیچیدہ جال جو اسلام آباد میں دنیا کا منتظر ہے
اتوار کی شام جب دنیا آبنائے ہرمز میں بڑے پیمانے پر فوجی تصادم کے قریب پہنچ چکی تھی، ایک ایسی پیش رفت ہوئی جس کا کسی کو اندازہ نہ تھا۔ اسلام آباد میں امریکہ ایران مذاکرات کی راہ ہموار کرنے والی اس جنگ بندی نے دنیا کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا۔ درحقیقت، پاکستان نے اپنے منفرد سفارتی مقام کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک ایسا کام کیا جس کے لیے کوئی بڑی طاقت تیار نہیں تھی ۔ یہ جنگ بندی محض ایک اتفاق نہیں بلکہ برسوں کی سفارتی محنت کا نتیجہ تھی۔ پاکستان نے وہ کردار ادا کیا جو روایتی طور پر صرف بڑی عالمی طاقتیں انجام دیتی ہیں — اور انہوں نے یہ کام اس وقت کیا جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدہ تعلقات اپنے عروج پر تھے ۔ پاکستان نے امریکہ ایران تنازع میں ثالثی کیسے کی؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر پاکستان نے یہ ناممکن کام کیسے کر دکھایا؟ اس کی وجہ پاکستان کی منفرد خارجہ پالیسی ہے۔ اسلام آباد نے کبھی بھی اپنے آپ کو کسی ایک بلاک سے مکمل طور پر منسلک نہیں کیا۔ ایک طرف اس کے امریکہ کے ساتھ دیرینہ سیکیورٹی تعلقات ہیں تو دوسری طرف ایران کے ساتھ ۹۰۰ کلومیٹر طویل سرحد اور گہرے ثقافتی روابط ۔ پاکستان نے اپنی اس ...