Posts

Showing posts with the label آبنائے ہرمز

ناممکن میز پر: عالمی سفارت کاری کا پیچیدہ جال جو اسلام آباد میں دنیا کا منتظر ہے

Image
اتوار کی شام جب دنیا آبنائے ہرمز میں بڑے پیمانے پر فوجی تصادم کے قریب پہنچ چکی تھی، ایک ایسی پیش رفت ہوئی جس کا کسی کو اندازہ نہ تھا۔ اسلام آباد میں امریکہ ایران مذاکرات کی راہ ہموار کرنے والی اس جنگ بندی نے دنیا کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا۔ درحقیقت، پاکستان نے اپنے منفرد سفارتی مقام کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک ایسا کام کیا جس کے لیے کوئی بڑی طاقت تیار نہیں تھی ۔ یہ جنگ بندی محض ایک اتفاق نہیں بلکہ برسوں کی سفارتی محنت کا نتیجہ تھی۔ پاکستان نے وہ کردار ادا کیا جو روایتی طور پر صرف بڑی عالمی طاقتیں انجام دیتی ہیں — اور انہوں نے یہ کام اس وقت کیا جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدہ تعلقات اپنے عروج پر تھے ۔ پاکستان نے امریکہ ایران تنازع میں ثالثی کیسے کی؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر پاکستان نے یہ ناممکن کام کیسے کر دکھایا؟ اس کی وجہ پاکستان کی منفرد خارجہ پالیسی ہے۔ اسلام آباد نے کبھی بھی اپنے آپ کو کسی ایک بلاک سے مکمل طور پر منسلک نہیں کیا۔ ایک طرف اس کے امریکہ کے ساتھ دیرینہ سیکیورٹی تعلقات ہیں تو دوسری طرف ایران کے ساتھ ۹۰۰ کلومیٹر طویل سرحد اور گہرے ثقافتی روابط ۔ پاکستان نے اپنی اس ...

آبنائے ہرمز سے نیویارک تک: خلیجی ممالک کی نئی عالمی حکمت عملی

Image
  دنیا کی ۲۰ فیصد توانائی کی ترسیل جس آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے، آج وہاں ایرانی پرچم لہرانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں ۔ خلیجی ممالک کے اصل عزائم کا دارومدار اس آبنائے کو کھولنے یا بند کرنے پر ہے۔ لیکن اس بار صورتحال مختلف ہے۔ خلیجی ممالک نے طے کر لیا ہے کہ وہ ایرانی بلیک میل کے آگے جھکیں گے نہیں، بلکہ اس چیلنج کو موقع میں بدلیں گے۔ ایرانی خطرے کے بعد خلیجی تعاون کونسل کی پوزیشن کیا ہے؟ جنگ کے بعد خلیجی تعاون کونسل پہلے سے زیادہ متحد نظر آتی ہے، لیکن یہ اتحاد ظاہری ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ ہر خلیجی ریاست ایران کے ساتھ اپنے مفادات کے مطابق برتاؤ کر رہی ہے ۔ بحرین ایران کو براہ راست وجودی خطرہ سمجھتا ہے، جبکہ عمان نے ثالثی اور غیرجانبداری کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔ قطر اب بھی سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات نے سخت گیر موقف اختیار کر لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلیجی ممالک کا کوئی واحد ردعمل سامنے نہیں آتا۔ What Do the Gulf States Really Want? https://t.co/eoJsio8Upl The confrontation is not with the Iranian people, heirs to a great civilization and among the first victims of th...

امریکہ کی ضبط شدہ ایرانی جہاز سے بائیس عملے کی پاکستان منتقلی: اعتماد سازی کا قدم یا سفارتی دباؤ؟

Image
امریکہ نے گزشتہ روز ضبط شدہ ایرانی جہاز ’ ایم وی توسکا‘ میں سوار بائیس عملے کو پاکستان منتقل کر دیا ہے۔ وزارت خارجہ پاکستان کے مطابق یہ عملہ اتوار کی شب اسلام آباد پہنچا اور پیر کو انہیں ایرانی حکام کے حوالے کر دیا گیا۔ یہ اقدام امریکی بحری ناکہ بندی کے تناظر میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ یاد رہے کہ انیس اپریل دو ہزار چھبیس کو امریکی افواج نے خلیج عمان میں اس جہاز کو روک کر ضبط کیا تھا۔ امریکہ کا الزام تھا کہ یہ جہاز ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور وارننگ کے باوجود نہیں رکا۔ تاہم ایران نے اس کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور ’بحری قزاقی‘ قرار دیا تھا۔ پاکستان کا ثالثی کردار: دشمنوں کے درمیان پل کیسے بنا؟ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے اس منتقلی کو اعتماد سازی کا اقدام قرار دیا اور کہا کہ یہ عمل دونوں فریقین کے تعاون سے ممکن ہوا۔ اس سے قبل پاکستان نے آٹھ اپریل کو امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ اگرچہ اسلام آباد میں ہونے والی اعلیٰ سطح...

آذربائیجان کی ایل این جی پیشکش: پاکستان کے لیے توانائی کا نیا دروازہ

Image
پاکستان کو ان دنوں شدید توانائی کے بحران کا سامنا ہے۔ آذربائیجان پاکستان ایل این جی سپلائی کی پیشکش ایک امید کی کرن ہے۔ آذربائیجان کی سرکاری توانائی کمپنی جمہوریہ آذربائیجان کی ریاستی تیل کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان کو فوری طور پر ایل این جی فراہم کرنے کے لیے تیار ہے ۔ یہ پیشکش ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے قطر سے آنے والی ایل این جی کی سپلائی تقریباً مفلوج ہو چکی ہے اور پاکستان شدید لوڈ شیڈنگ کا شکار ہے۔ آذربائیجان نے پاکستان کو ایل این جی کی پیشکش کیوں کی؟ یہ پیشکش محض ایک جملہ نہیں بلکہ ایک طے شدہ منصوبے کا حصہ ہے۔ درحقیقت سن ۲۰۲۵ میں جمہوریہ آذربائیجان کی ریاستی تیل کمپنی ٹریڈنگ اور پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کے درمیان ایک فریم ورک معاہدہ طے پایا تھا ۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان تیز ترین طریقہ کار کے ذریعے آذربائیجان سے ایل این جی خرید سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوریہ آذربائیجان کی ریاستی تیل کمپنی نے فوری طور پر پاکستان کو ایل این جی بھیجنے کی آمادگی ظاہر کی ہے، جیسے ہی اسلام آباد کی طرف سے باقاعدہ درخواست موصول ہوگی۔...