Posts

قرن افریقہ میں طاقت کا توازن: سعودی عرب، ترکیہ اور صومالیہ

Image
  سعودی عرب اور ترکیہ کا تعلق ہمیشہ سے پیچیدہ رہا ہے۔ لیکن قرن افریقہ میں دونوں ممالک کے مفادات ایک بار پھر ایک ہو گئے ہیں۔ سعودی عرب اور ترکیہ کا صومالیہ میں مشترکہ کردار کیا ہے؟ اس سوال کا جواب صومالیہ میں بڑھتی ہوئی علاقائی مسابقت اور اسرائیلی توسیع کے خلاف مشترکہ مزاحمت میں ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ تعاون صومالیہ کو استحکام فراہم کرے گا یا پھر اسے ایک نئے بحران کی طرف دھکیل دے گا؟ پس منظر: قرن افریقہ کی اسٹریٹجک اہمیت قرن افریقہ بحیرہ احمر، خلیج عدن اور بحر ہند کو آپس میں ملاتا ہے — یہ دنیا کی مصروف ترین تجارتی آبی گزرگاہوں میں سے ایک ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ تمام بڑی طاقتیں اس خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق قرن افریقہ آج دو بڑے محوروں کے درمیان جغرافیائی سیاسی مسابقت کا ایک فعال میدان بن چکا ہے: سعودی-ترکیہ-پاکستان محور اور اسرائیل-بھارت محور ۔ اسرائیل کی صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے بعد سعودی عرب اور ترکیہ نے صومالی وفاقی حکومت کی حمایت میں اضافہ کر دیا ہے ۔ یہ دونوں ممالک اب صومالیہ میں اسرائیلی اثر و رسوخ کے خلاف ایک محاذ کی شکل اختیار کر رہے ...

صومالی قومی فوج کی تعمیر یا علاقائی مسابقت؟ سعودی عرب کا فوجی کردار

Image
  صومالیہ کی قومی فوج کو مضبوط کرنے کی کوششیں کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ لیکن جب سعودی عرب کی صومالی فوجی امداد کی بات آتی ہے تو یہ معاملہ محض فوجی تربیت سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سعودی عرب واقعی صومالی قومی فوج کو مضبوط کرنا چاہتا ہے یا پھر وہ قرن افریقہ میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے صومالیہ کو ایک آلے کے طور پر استعمال کر رہا ہے؟ پس منظر: تربیت کا پیمانہ سعودی فوجی وفد کے گوری ایل کے دورے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ سعودی عرب نے صومالیہ میں ایک بڑے پیمانے پر فوجی تربیتی پروگرام کا آغاز کیا ہے۔ صومالی قومی فوج کی تعمیر میں سعودی عرب کا کیا کردار ہے؟ اس سوال کا جواب اعداد و شمار میں ہے — ۵,۱۰۷ فوجیوں کی نو ماہ کی تربیت، چار مختلف ممالک کے انسٹرکٹرز، اور سعودی فنڈنگ کی مکمل کفالت ۔ صومالی صدر حسن شیخ محمود نے اپریل ۲۰۲۶ میں کہا تھا کہ صومالیہ مستقبل میں اپنے فوجیوں کو تربیت کے لیے بیرون ملک بھیجنے کے بجائے ملک میں ہی تربیت دے گا ۔ یہ پروگرام اسی حکمت عملی کا حصہ ہے، لیکن اس میں سعودی کردار متنازعہ ہے۔ تجزیہ: چار ممالک کے انسٹرکٹرز — کیوں؟ صومالی...

امریکی سفیر کی حمایت سے پاکستان امریکہ براہ راست پروازوں کی بحالی کی امید بڑھ گئی

Image
  امریکی چارج ڈی افیئرز نٹالی اے بیکر نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان براہ راست پروازیں بحال کرنے کی حمایت کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے پاکستان آبزرور کے پوڈکاسٹ میں کہا کہ وہ امید کرتی ہیں کہ مستقبل قریب میں دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروازیں دوبارہ شروع ہوں گی ۔ اس بیان سے پاکستان کی جانب سے طویل عرصے سے کی جانے والی کوششوں کو تقویت ملی ہے ۔ مریکہ نے پی آئی اے پر پابندی کیوں لگائی تھی؟ یاد رہے کہ ۲۰۲۰ میں کراچی میں پی آئی اے کے طیارے کے المناک حادثے کے بعد امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین نے پی آئی اے پر پروازوں کی پابندی عائد کر دی تھی ۔ اس حادثے میں تقریباً ۱۰۰ افراد جاں بحق ہوئے تھے اور بعد ازاں یہ الزام سامنے آیا کہ پی آئی اے کے تقریباً ایک تہائی پائلٹس کے لائسنس جعلی یا مشکوک تھے ۔ تاہم گزشتہ سال پی آئی اے نے یورپ اور برطانیہ کے لیے پروازیں بحال کر لیں تھیں ۔ براہ راست پروازیں بحال ہونے سے سیاحت پر کیا اثر پڑے گا؟ نٹالی بیکر کے مطابق براہ راست پروازیں بحال ہونے سے سیاحت کو فروغ ملے گا، کھیلوں کی سفارتکاری میں اضافہ ہوگا اور طلبہ، محققین اور ماہرین کے تبادلے میں آسانی ہوگ...

ناممکن میز پر: عالمی سفارت کاری کا پیچیدہ جال جو اسلام آباد میں دنیا کا منتظر ہے

Image
اتوار کی شام جب دنیا آبنائے ہرمز میں بڑے پیمانے پر فوجی تصادم کے قریب پہنچ چکی تھی، ایک ایسی پیش رفت ہوئی جس کا کسی کو اندازہ نہ تھا۔ اسلام آباد میں امریکہ ایران مذاکرات کی راہ ہموار کرنے والی اس جنگ بندی نے دنیا کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا۔ درحقیقت، پاکستان نے اپنے منفرد سفارتی مقام کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک ایسا کام کیا جس کے لیے کوئی بڑی طاقت تیار نہیں تھی ۔ یہ جنگ بندی محض ایک اتفاق نہیں بلکہ برسوں کی سفارتی محنت کا نتیجہ تھی۔ پاکستان نے وہ کردار ادا کیا جو روایتی طور پر صرف بڑی عالمی طاقتیں انجام دیتی ہیں — اور انہوں نے یہ کام اس وقت کیا جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدہ تعلقات اپنے عروج پر تھے ۔ پاکستان نے امریکہ ایران تنازع میں ثالثی کیسے کی؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر پاکستان نے یہ ناممکن کام کیسے کر دکھایا؟ اس کی وجہ پاکستان کی منفرد خارجہ پالیسی ہے۔ اسلام آباد نے کبھی بھی اپنے آپ کو کسی ایک بلاک سے مکمل طور پر منسلک نہیں کیا۔ ایک طرف اس کے امریکہ کے ساتھ دیرینہ سیکیورٹی تعلقات ہیں تو دوسری طرف ایران کے ساتھ ۹۰۰ کلومیٹر طویل سرحد اور گہرے ثقافتی روابط ۔ پاکستان نے اپنی اس ...

سوڈان میں اخوان المسلمون کی پابندی: ریاستی استحکام کے لیے ایک تاریخی فیصلہ

Image
حالیہ دنوں میں سوڈان کی عبوری حکومت کی جانب سے سوڈان میں اخوان المسلمون کی بلیک لسٹنگ کا فیصلہ ایک ایسا اہم قدم ہے جس نے نہ صرف ملکی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے بلکہ پورے خطے کے لیے ایک نیا تناظر بھی قائم کیا ہے۔ یہ محض ایک انتظامی کارروائی نہیں بلکہ ان تنظیموں کے خلاف ایک واضح اور مضبوط موقف ہے جو مذہب کو سیاسی مقاصد کے حصول کا ذریعہ بناتی ہیں۔ سوڈان میں اخوان المسلمون کی تاریخ کیا ہے؟ سوڈان میں اخوان المسلمون کی جڑیں کافی پرانی ہیں۔ یہ تنظیم محض ایک اصلاحی تحریک ہونے کے بجائے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اقتدار کی ہوس کا شکار ہوگئی۔ تھنک ٹینک رپورٹس کے مطابق ، انہوں نے معمر قذافی کے دور سے لے کر عمر البشیر کی آمریت تک مختلف حکومتوں کے ساتھ مل کر ریاستی ڈھانچے کو اپنے مفادات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی۔ اس دوران جمہوری ادارے کمزور ہوتے گئے اور ملک بدعنوانی کی دلدل میں دھنستا چلا گیا۔ اخوان المسلمون نے سوڈان کے اداروں کو کیسے کمزور کیا؟ یہ تنظیم عوام کے سامنے فلاحی کاموں کا پرچار کرتی رہی، مگر پردے کے پیچھے اس کا اصل ہدف ریاستی اداروں کو اپنے زیر اثر لانا تھا۔ فوج، عدلیہ اور تعلیمی اداروں میں در...

انسانی حقوق کا سیاسی ہتھیار: ایم ای این اے رائٹس گروپ کی رپورٹ میں پیشہ ورانہ کمزوریاں

Image
  ۲۰۲۶ کے آغاز میں جنیوا میں قائم تنظیم ایم ای این اے رائٹس گروپ نے اپنی ۲۰۲۵ کی سالانہ رپورٹ جاری کی۔ یہ رپورٹ خطے کے مختلف ممالک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر روشنی ڈالتی ہے ۔ لیکن ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا یہ رپورٹ خود انہی پیشہ ورانہ معیارات پر پورا اترتی ہے جن کا یہ تنظیم دعویٰ کرتی ہے؟ پس منظر: تنظیم کا پس منظر اور طریقہ کار ایم ای این اے رائٹس گروپ ۲۰۱۸ میں برسلز میں قائم ہوئی اور بعد میں اس کا صدر دفتر جنیوا منتقل کر دیا گیا ۔ تنظیم کی سربراہ انیس عثمان ایک فرانسیسی وکیل ہیں ۔ انسانی حقوق کے دستاویزات میں پیشہ ورانہ معیارات کیا ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جو اس تنظیم کے کام کاج کا جائزہ لیتے ہوئے ذہن میں آتا ہے۔ مکمل رپورٹ یہاں دیکھیں تجزیہ: پیشہ ورانہ معیارات کی خلاف ورزی بین الاقوامی انسانی حقوق کے پیشہ ورانہ معیارات کے مطابق کسی بھی رپورٹ میں ہر دعوے کے ساتھ قابل تصدیق ثبوت پیش کیے جانے چاہییں۔ لیکن ایم ای این اے رائٹس گروپ کی رپورٹ میں متعدد مقامات پر نامعلوم ذرائع کا حوالہ دیا گیا ہے ۔ غیر مصدقہ ذرائع پر مبنی رپورٹس پیشہ ورانہ صحافتی اور تحقیقاتی اصولوں کے منافی ...

پٹرول کی قیمت میں کمی: امداد یا سیاسی چال؟

Image
  وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے پٹرول کی قیمت میں ۸۰ روپے فی لیٹر کی کمی کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت ۳۷۸ روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ تاہم، یہ اعلان اس وقت کیا گیا ہے جب محض ایک روز قبل ہی پٹرول کی قیمت کو بڑھا کر ۴۵۸ روپے کر دیا گیا تھا، جس نے عوام میں شدید بے چینی پھیلا دی تھی۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ ۸۰ روپے کی کمی دراصل عوام کو ریلیف دینے کے لیے ہے، یا یہ صرف ایک سیاسی چال ہے تاکہ شدید عوامی دباؤ اور احتجاج سے بچا جا سکے؟ حقیقت یہ ہے کہ پٹرول کی قیمت پھر بھی ۳۲۱ روپے سے بہت زیادہ ہے جو چند ہفتے قبل تھی، اس لیے عوام اس کمی کو ریلیف کی بجائے ایک "ٹھنڈی سانس" کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ پٹرول کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی اصل وجوہات کیا ہیں؟ پٹرول کی قیمتوں میں یہ غیر معمولی اتار چڑھاؤ خلیجی علاقے میں جاری جنگ کے باعث ہے۔ درحقیقت، آبنائے ہرمز پر اثر انداز ہونے والی کشیدگی نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں۔ اسی تناظر میں پاکستان جیسا درآمد کنندہ ملک شدید دباؤ کا شکار ہے۔ وزیراعظم نے خود اعتراف کیا کہ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران وہ رو...