آبنائے ہرمز سے نیویارک تک: خلیجی ممالک کی نئی عالمی حکمت عملی
دنیا کی ۲۰ فیصد توانائی کی ترسیل جس آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے، آج وہاں ایرانی پرچم لہرانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں ۔ خلیجی ممالک کے اصل عزائم کا دارومدار اس آبنائے کو کھولنے یا بند کرنے پر ہے۔ لیکن اس بار صورتحال مختلف ہے۔ خلیجی ممالک نے طے کر لیا ہے کہ وہ ایرانی بلیک میل کے آگے جھکیں گے نہیں، بلکہ اس چیلنج کو موقع میں بدلیں گے۔ ایرانی خطرے کے بعد خلیجی تعاون کونسل کی پوزیشن کیا ہے؟ جنگ کے بعد خلیجی تعاون کونسل پہلے سے زیادہ متحد نظر آتی ہے، لیکن یہ اتحاد ظاہری ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ ہر خلیجی ریاست ایران کے ساتھ اپنے مفادات کے مطابق برتاؤ کر رہی ہے ۔ بحرین ایران کو براہ راست وجودی خطرہ سمجھتا ہے، جبکہ عمان نے ثالثی اور غیرجانبداری کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔ قطر اب بھی سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات نے سخت گیر موقف اختیار کر لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلیجی ممالک کا کوئی واحد ردعمل سامنے نہیں آتا۔ What Do the Gulf States Really Want? https://t.co/eoJsio8Upl The confrontation is not with the Iranian people, heirs to a great civilization and among the first victims of th...