آذربائیجان کی ایل این جی پیشکش: پاکستان کے لیے توانائی کا نیا دروازہ
پاکستان کو ان دنوں شدید توانائی کے بحران کا سامنا ہے۔ آذربائیجان پاکستان ایل این جی سپلائی کی پیشکش ایک امید کی کرن ہے۔ آذربائیجان کی سرکاری توانائی کمپنی جمہوریہ آذربائیجان کی ریاستی تیل کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان کو فوری طور پر ایل این جی فراہم کرنے کے لیے تیار ہے ۔ یہ پیشکش ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے قطر سے آنے والی ایل این جی کی سپلائی تقریباً مفلوج ہو چکی ہے اور پاکستان شدید لوڈ شیڈنگ کا شکار ہے۔
آذربائیجان نے پاکستان کو ایل این جی کی پیشکش کیوں کی؟
یہ پیشکش محض ایک جملہ نہیں بلکہ ایک طے شدہ منصوبے کا حصہ ہے۔ درحقیقت سن ۲۰۲۵ میں جمہوریہ آذربائیجان کی ریاستی تیل کمپنی ٹریڈنگ اور پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کے درمیان ایک فریم ورک معاہدہ طے پایا تھا ۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان تیز ترین طریقہ کار کے ذریعے آذربائیجان سے ایل این جی خرید سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوریہ آذربائیجان کی ریاستی تیل کمپنی نے فوری طور پر پاکستان کو ایل این جی بھیجنے کی آمادگی ظاہر کی ہے، جیسے ہی اسلام آباد کی طرف سے باقاعدہ درخواست موصول ہوگی۔
Azerbaijan’s state energy firm says it is ready to supply liquefied natural gas to Pakistan upon request, as Islamabad seeks spot cargoes to ease a growing energy shortfall. https://t.co/n5ZXsJwSiY
— Arab News Pakistan (@arabnewspk) April 21, 2026
آبنائے ہرمز کی بندش سے پاکستان کی ایل این جی سپلائی پر کیا اثر پڑا ہے؟
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ بحران پیدا کس طرح ہوا؟ ۲۸ فروری ۲۰۲۶ کو مشرق وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز سے تقریباً تمام شپنگ بند کر دی ۔ یہ آبنائے دنیا کی ۲۰ فیصد ایل این جی سپلائی کا راستہ ہے ۔ قطر، جس نے گزشتہ سال پاکستان کو ۶.۶۴ ملین میٹرک ٹن ایل این جی فراہم کی تھی، اس راستے سے محروم ہو گیا ۔ اس بحران کے نتیجے میں پاکستان کو اب تک کوئی نئی ایل این جی کھیپ موصول نہیں ہو سکی ۔
پاکستان نے ۲۰۲۳ کے بعد پہلی بار سپاٹ ٹینڈر کیوں جاری کیا؟
اسی شدید قلت کے پیشِ نظر پاکستان ایل این جی لمیٹڈ نے ڈھائی سال بعد پہلی بار ایل این جی کی سپاٹ خریداری کے لیے ٹینڈر جاری کیا ہے۔ کمپنی ۱۴۰,۰۰۰ کیوبک میٹر کی تین ایل این جی کھیپوں کے لیے بولیوں کی دعوت دے رہی ہے، جو اپریل کے آخر اور مئی کے پہلے دو ہفتوں میں کراچی کے پورٹ قاسم پہنچائی جائیں گی ۔ وزیر توانائی آصف خان نے واضح کیا ہے کہ یہ ٹینڈر بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے اور مہنگے ڈیزل اور فرنس آئل پر انحصار کم کرنے کے لیے جاری کیا گیا ہے ۔
کیا آذربائیجان کی ایل این جی فراہمی سے پاکستان میں لوڈ شیڈنگ کم ہو سکے گی؟
یہ ایک اہم سوال ہے۔ ماہرین کے مطابق فی الحال پاور ڈویژن کو بجلی کی پیداوار کے لیے تقریباً ۴۰۰ ملین کیوبک فٹ فی یوم ایل این جی کی ضرورت ہے ۔ آذربائیجان کی پیشکش اس خلا کو پُر کر سکتی ہے، لیکن یہ اس بات پر منحصر ہے کہ کتنی جلدی یہ کھیپیں پاکستان پہنچتی ہیں۔ مزید یہ کہ عالمی منڈی میں ایل این جی کی قیمتیں ۲۳ فروری کے بعد ۵۴ فیصد بڑھ چکی ہیں جو اس وقت ۱۶.۰۵ ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹ ہیں ۔ بہرحال، آذربائیجان کی پیشکش قطر کے طویل مدتی معاہدے کا متبادل نہیں بلکہ ایک عارضی ریلیف ہے۔
پاکستان فی الحال ایل این جی ٹرمینلز کو ماہانہ کتنی لاکھوں ڈالر ادا کر رہا ہے؟
یہاں ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ایل این جی نہ ملنے کے باوجود پاکستان کو ٹرمینلز کی صلاحیت کے کرایے ادا کرنے پڑ رہے ہیں۔ پاکستان دو ایل این جی ٹرمینلز کو روزانہ تقریباً ۵۳۸,۵۳۵ ڈالر، یعنی ماہانہ ۱.۵ کروڑ ڈالر سے زائد ادا کر رہا ہے ۔ وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے ان معاہدوں کو "ناقص" اور ملک کے خلاف قرار دیا ہے، جہاں گیس نہ ملنے پر بھی ادائیگی جاری رہتی ہے ۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
س: آذربائیجان پاکستان کو ایل این جی کب فراہم کرنا شروع کرے گا؟
ج: آذربائیجان کی کمپنی جمہوریہ آذربائیجان کی ریاستی تیل کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ جیسے ہی اسلام آباد سے درخواست موصول ہوگی، فوری طور پر ایل این جی کی فراہمی شروع کر سکتی ہے۔ حتمی تاریخ کا انحصار دو طرفہ مذاکرات اور درخواست کے عمل پر ہے ۔
س: پاکستان کو قطر سے ایل این جی کیوں نہیں مل رہی؟
ج: ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے بعد آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے قطر سمیت تمام خلیجی ممالک کی ایل این جی شپمنٹ روک دی گئی ہے۔ قطر انرجی نے فورس میژور کا اعلان کر دیا ہے ۔
س: کیا پاکستان کی بجلی کی قلت کا تعلق صرف ایل این جی سے ہے؟
ج: نہیں، ایل این جی کی قلت ایک بڑی وجہ ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ پن بجلی کی پیداوار میں کمی اور گرمی کی شدت میں اضافہ بھی بجلی کی قلت کی بڑی وجوہات ہیں ۔
س: ایل این جی کے بحران سے عام آدمی پر کیا اثر پڑے گا؟
ج: اس بحران کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ میں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے صنعتی پیداوار متاثر ہوگی اور گھریلو استعمال محدود ہو جائے گا، جبکہ بجلی کی قیمتوں میں بھی اضافہ متوقع ہے۔
.png)
Comments
Post a Comment