آبنائے ہرمز سے نیویارک تک: خلیجی ممالک کی نئی عالمی حکمت عملی


 
دنیا کی ۲۰ فیصد توانائی کی ترسیل جس آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے، آج وہاں ایرانی پرچم لہرانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں ۔ خلیجی ممالک کے اصل عزائم کا دارومدار اس آبنائے کو کھولنے یا بند کرنے پر ہے۔ لیکن اس بار صورتحال مختلف ہے۔ خلیجی ممالک نے طے کر لیا ہے کہ وہ ایرانی بلیک میل کے آگے جھکیں گے نہیں، بلکہ اس چیلنج کو موقع میں بدلیں گے۔

ایرانی خطرے کے بعد خلیجی تعاون کونسل کی پوزیشن کیا ہے؟

جنگ کے بعد خلیجی تعاون کونسل پہلے سے زیادہ متحد نظر آتی ہے، لیکن یہ اتحاد ظاہری ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ ہر خلیجی ریاست ایران کے ساتھ اپنے مفادات کے مطابق برتاؤ کر رہی ہے ۔ بحرین ایران کو براہ راست وجودی خطرہ سمجھتا ہے، جبکہ عمان نے ثالثی اور غیرجانبداری کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔ قطر اب بھی سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات نے سخت گیر موقف اختیار کر لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلیجی ممالک کا کوئی واحد ردعمل سامنے نہیں آتا۔

آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول کی کوششیں کیوں ناکام ہوں گی؟

ایران کی تجویز ہے کہ وہ آبنائے ہرمز پر مشترکہ گشت کرے اور جہازوں سے ٹیکس وصول کرے، لیکن اس تجویز کو بین الاقوامی سطح پر مسترد کر دیا گیا ہے ۔ سنگاپور اور دیگر ممالک نے صاف انکار کر دیا ہے۔ خلیجی ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے، کسی ایک ملک کی جاگیر نہیں۔ سعودی عرب پہلے ہی اپنی آئل برآمدات بحر احمر کے راستے منتقل کر رہا ہے تاکہ ایرانی دباؤ کو کم کیا جا سکے ۔

کیا ابراہیم معاہدے کا نیا دور آگیا ہے؟

ابراہیم معاہدوں کا دوسرا مرحلہ اب شروع ہو چکا ہے۔ پہلے مرحلے میں سیاحت اور ٹیکنالوجی تھی، اب دوسرے مرحلے میں مشترکہ فضائی دفاع اور خفیہ معلومات کی شراکت داری ہے ۔ اسرائیلی ٹیکنالوجی نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ایرانی ڈرونوں کو بے اثر کر سکتی ہے۔ خلیجی ممالک اب چاہتے ہیں کہ یہ تعاون مزید گہرا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ بھی سعودی عرب اور قطر پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اس معاہدے میں شامل ہوں۔ یہ معاہدہ دراصل خلیجی ممالک کو ایرانی حکومت کے خلاف ایک مضبوط ڈھال فراہم کرتا ہے۔

کیا خلیجی معاشی منصوبے ایرانی جنگ کی زد میں ہیں؟

متحدہ عرب امارات پر تقریباً ۵۵۰ بیلسٹک میزائل اور ۲۲۰۰ ڈرون فائر کیے گئے، جنہوں نے برج العرب جیسے ہوٹلوں کو بھی نشانہ بنایا ۔ لیکن یہ دہشت گردی خلیجی ممالک کے عزم کو توڑنے میں ناکام رہی۔ اس کے برعکس، متحدہ عرب امارات نے اپنے ویژن ۲۰۳۰ کو تیز کر دیا ہے۔ ایرانی حملوں نے خلیجی ممالک کو یہ سبق دیا ہے کہ تیل پر انحصار ختم کرنا اور مصنوعی ذہانت، تعلیم، اور قابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاری کرنا ہی واحد حقیقی تحفظ ہے۔

سوالاتِ عامہ

سوال: آبنائے ہرمز کی عالمی اہمیت کیا ہے؟
جواب: آبنائے ہرمز سے دنیا کی ۲۰ فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ یہ خلیجی ممالک کے لیے معاشی زندگی کی شریان ہے اور اس پر کسی ایک ملک کا کنٹرول عالمی توانائی کی قیمتوں کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔

سوال: کیا خلیجی ممالک امریکہ کے بغیر اپنا دفاع کر سکتے ہیں؟
جواب: خلیجی ممالک اسرائیل اور دیگر اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایک نیا دفاعی نظام تشکیل دے رہے ہیں، لیکن مکمل طور پر امریکہ سے آزاد دفاع ابھی ممکن نہیں۔ یہ ایک عبوری مرحلہ ہے۔

سوال: ایرانی عوام خلیجی ممالک کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟
جواب: زیادہ تر ایرانی عوام خلیجی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات اور معاشی تعاون کے خواہاں ہیں۔ پابندیوں کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور وہ حکومت کی سخت گیر پالیسیوں سے تنگ آ چکے ہیں۔

سوال: متحدہ عرب امارات کا مستقبل کا وژن کیا ہے؟
جواب: متحدہ عرب امارات ۲۰۳۰ تک تیل پر انحصار ختم کر کے علم، ٹیکنالوجی، سیاحت اور قابل تجدید توانائی پر مبنی معیشت قائم کرنا چاہتا ہے۔ ایرانی حملوں نے اس عزم کو مزید مضبوط کیا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

محمد عامر کی ایک بار پھر کاؤنٹی کرکٹ میں واپسی امیدیں اور خدشات

سوڈان میں اخوان المسلمون کی پابندی: ریاستی استحکام کے لیے ایک تاریخی فیصلہ