عمران خان کی بگڑتی آنکھ: کیا سپریم کورٹ اسپتال منتقلی کی درخواست منظور کر لے گی؟
پاکستان کے معروف سیاسی رہنما اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اسپتال منتقلی کی درخواست نے ایک بار پھر سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ ۱۸ مئی ۲۰۲۶ کو سپریم کورٹ میں دائر کردہ اس نئی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالتی احکامات کے تحت انہیں فوری طور پر اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے، جہاں وہ اپنے ذاتی معالجین کی نگرانی میں علاج کروا سکیں۔
عمران خان اس وقت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں، اور ان کے مطابق اکتوبر ۲۰۲۵ سے ان کی بینائی میں مسلسل کمی آ رہی تھی، لیکن جیل حکام نے ان کی شکایت پر صرف آنکھوں کے قطرے دے کر وقت ضائع کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اب یہ معاملہ آئینی عدالت میں پہنچ چکا ہے۔
عمران خان کی آنکھ کی بینائی کتنی کمزور ہو چکی ہے؟
سپریم کورٹ میں پیش کردہ میڈیکل رپورٹس کے مطابق، سابق وزیراعظم کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف ۱۵ فیصد رہ گئی ہے۔ امیکس کیوری بری سلمان صفدر کی رپورٹ کے مطابق، ان کی آنکھ میں خون کا لوتھڑا جم گیا تھا جس کی بروقت تشخیص نہ ہونے کے باعث بصارت کو شدید نقصان پہنچا۔
طبی ماہرین کے مطابق ایسے معاملات میں وقت انتہائی اہم ہوتا ہے۔ اگر خون کا یہ لوتھڑا آنکھ سے دل یا دماغ کی طرف سفر کرتا ہے تو مریض کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان کے اہلخانہ اور وکیل جیل میں موجود ڈاکٹروں پر بھروسہ کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔
جیل میں قیدیوں کو طبی سہولیات سے متعلق پاکستان کے کیا قوانین ہیں؟
پاکستان کے جیل رولز ۱۹۷ کے تحت قیدی کو اسپتال منتقل کرنے کا اختیار صرف حکومت کو حاصل ہے۔ اسی قانون کا حوالہ دیتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ نے ۱۲ مارچ ۲۰۲۶ کو یہ درخواست مسترد کر دی تھی کہ عمران خان کو پرائیویٹ اسپتال شفٹ کیا جائے۔
تاہم عمران خان کے وکیل عذیر کرامت بھنڈری کا کہنا ہے کہ یہ پرانے قوانین آئین کے بنیادی حقوق سے متصادم ہیں۔ انہوں نے عدالت میں دلائل دیئے کہ پاکستان میں ماضی میں بھی سیاسی شخصیات جیسے نواز شریف اور آصف زرداری کو قید کے دوران اعلیٰ طبی سہولیات فراہم کی گئی تھیں، اور عمران خان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔
🚨 Now we will not allow this parliament to function anymore until 🇵🇰 Imran Khan is treated in the presence of his personal doctors and family.
— Asad Nasir (@asadnasir2000) May 18, 2026
- Mahmood Khan Achakzai pic.twitter.com/Sw0yyfIQEK
اپوزیشن نے عمران خان کی صحت کے حوالے سے احتجاج کیوں کیا؟
عمران خان کی بگڑتی صحت نے سیاسی صورتحال کو تیز کر دیا ہے۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے واضح کر دیا ہے کہ وہ "مائنس عمران" فارمولے کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔
حالیہ دنوں میں خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل افریدی اور عمران خان کی بہنوں کو جیل میں ملاقات کے لیے جانے سے روک دیا گیا، جس کے نتیجے میں انہوں نے چنگی نمبر ۲۶ پر دھرنا دے دیا۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ جب تک عمران خان کو ان کے ذاتی ڈاکٹر علاج نہیں کر سکتے اور اہلخانہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی، وہ پارلیمنٹ میں بھی خلل ڈالیں گے۔
خون کا لوتھڑا دل اور دماغ کے لیے کیوں خطرناک ہے؟
یہ سوال یہاں بہت اہم ہے کہ آخر آنکھ کا مسئلہ جان لیوا کیوں ہو سکتا ہے؟ درخواست میں وضاحت کی گئی ہے کہ مرکزی ریٹینل رگ بندش کی بنیادی وجہ خون کا لوتھڑا ہے۔
یہ لوتھڑا ایک جگہ سے ہٹ کر خون کے بہاؤ کے ذریعے پھیپھڑوں، دل یا دماغ میں جا کر رکاوٹ پیدا کر سکتا ہے۔ اگر یہ دل میں پہنچ جائے تو دل کا دورہ اور دماغ میں پہنچ جائے تو فالج کا سبب بن سکتا ہے۔ جیل میں مسلسل نگرانی کی سہولت نہ ہونے کے پیش نظر، ڈاکٹرز اسے ایک ٹک ٹک بَم قرار دے رہے ہیں۔
عدالت کی کیا رائے ہے اور کیا راہ نکل سکتی ہے؟
سپریم کورٹ اس وقت اس درخواست پر غور کر رہی ہے۔ اس سے قبل چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے واضح کیا تھا کہ عدالت کسی ایک قیدی کو خصوصی سہولیات دینے کا حکم نہیں دے سکتی، لیکن ان کی صحت کا مسئلہ انسانی بنیادوں پر اہم ہے۔
عدالت نے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس معاملے کو قوانین کے مطابق حل کرے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا عدالت جیل رولز ۱۹۷ کو نظر انداز کرتے ہوئے "حق حیات" کو فوقیت دیتی ہے، یا معاملہ دوبارہ حکومت کے پاس واپس چلا جاتا ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سوال: کیا عمران خان کی آنکھ کی بینائی واپس آ سکتی ہے؟
جی نہیں، طبی ماہرین کے مطابق مرکزی ریٹینل رگ بندش کی وجہ سے جو نقصان ہوتا ہے وہ عموماً مستقل ہوتا ہے۔ علاج کا مقصد دوسری آنکھ کو بچانا اور خون کے لوتھڑے کو دل یا دماغ تک جانے سے روکنا ہے۔
سوال: کیا شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں عمران خان کا علاج مہنگا ہے؟
شفا انٹرنیشنل ہسپتال پاکستان کے مہنگے ترین نجی اسپتالوں میں شمار ہوتا ہے۔ مگر عمران خان نے درخواست میں کہا ہے کہ وہ علاج کے اخراجات خود برداشت کرنے کو تیار ہیں اور وہ ملک سے باہر جانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔
سوال: کیا اس سے پہلے بھی سیاسی قیدیوں کو یہ سہولت ملی تھی؟
جی ہاں، درخواست میں نواز شریف اور آصف علی زرداری کی مثالیں دی گئی ہیں جنہیں قید کے دوران اسپتال میں داخل کرایا گیا اور ان کے اپنے ڈاکٹروں تک رسائی دی گئی تھی۔
سوال: حکومت عمران خان کو اسپتال کیوں شفٹ نہیں کرنا چاہتی؟
حکومت کا موقف ہے کہ وہ جیل رولز کے مطابق انہیں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں علاج فراہم کر رہی ہے اور ان کی صحت بہتر ہے، اور نجی اسپتال منتقلی کو "خصوصی سہولت" قرار دے کر اس سے انکار کیا جا رہا ہے۔
Comments
Post a Comment