اسرائیل نے لبنان جنگ بندی تو مان لی، لیکن حملے نہ روکے
حالیہ دنوں میں امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان ۴۵ روزہ جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق کیا گیا ہے۔ یہ معاہدہ واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کی تیسری کڑی ہے جسے عالمی سطح پر ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی اسرائیلی جنگی طیاروں نے ایک بار پھر جنوبی لبنان پر بمباری شروع کر دی۔ یہ وہی پرانی کہانی ہے جہاں جنگ بندی کے معاہدے صرف کاغذوں تک محدود رہتے ہیں اور زمین پر قتل عام جاری رہتا ہے۔
اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ کیا ہے؟
جنگ بندی کے اس معاہدے کے تحت ۱۶ اپریل ۲۰۲۶ء سے نافذ عبوری جنگ بندی کو مزید ۴۵ دن کے لیے بڑھا دیا گیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے اس معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے "انتہائی نتیجہ خیز" قرار دیا۔ اس معاہدے کی روشنی میں ۲ اور ۳ جون کو مزید مذاکرات کی میزبانی واشنگٹن کرے گا جبکہ ۲۹ مئی سے پینٹاگون میں سلامتی سے متعلق بات چیت کا آغاز ہوگا۔ لبنانی وفد نے اس معاہدے کو اپنے حق میں "ٹھوس سفارتی پیش رفت" قرار دیا ہے۔
On Friday, Lebanon and Israel said they'd agreed to extend the ceasefire for a further 45 days, but since that announcement and even before, deadly Israeli attacks have been relentless across southern Lebanon.
— Al Jazeera English (@AJEnglish) May 18, 2026
Al Jazeera’s @ZeinaKhodrAljaz brings you the latest. pic.twitter.com/Dhk8eJ2BYg
امریکہ نے اسرائیل لبنان جنگ بندی میں کیا کردار ادا کیا ہے؟
امریکہ نے اس پوری صورتحال میں ثالث کا کردار ادا کیا ہے اور خود کو خطے میں استحکام کا ضامن پیش کر رہا ہے۔ واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات میں اسرائیل کے سفیر یخیل لیٹر نے حصہ لیا جبکہ لبنانی نمائندگی بھی موجود تھی۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ جہاں ایک طرف جنگ بندی کی بات کر رہا ہے وہیں وہ اسرائیل کو لگام ڈالنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ۱۷ اپریل کے وعدے کہ "اسرائیل مزید لبنان پر بمباری نہیں کرے گا" کے باوجود حملے جاری ہیں۔
جنگ بندی کے باوجود اسرائیل لبنان پر حملے کیوں کر رہا ہے؟
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب دونوں فریقین جنگ بندی پر متفق ہیں تو پھر حملے کیوں جاری ہیں؟ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ وہ حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کی موجودگی ان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان حملوں میں زیادہ تر شہری ہلاک ہو رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پیر کے روز بعبدک کے علاقے میں ہونے والے فضائی حملے میں فلسطین اسلامک جہاد کے رہنما وائل عبدالحلیم اور ان کی ۱۷ سالہ بیٹی ریما کو شہید کر دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس معاہدے کو محض "تنگ نفسیاتی جنگ" قرار دے رہے ہیں۔
جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں کتنے افراد ہلاک ہوئے ہیں؟
اعداد و شمار کچھ یوں ہیں کہ محض ۲۴ گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں کم از کم ۷ افراد شہید ہو چکے ہیں۔ ان میں ۳ پیرامیڈیکس بھی شامل ہیں جو حاروف کے علاقے میں اپنی ڈیوٹی نبھا رہے تھے۔ لبنانی وزارت صحت کے مطابق شہید ہونے والوں میں وائل عبدالحلیم جیسی اہم شخصیات بھی شامل ہیں۔ یہ تعداد شاید کم لگے لیکن اس سے قبل انہی حملوں میں ۲۸۰۰ سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد واشنگٹن میں ہونے والی "نتیجہ خیز" گفتگو کی اصل تصویر پیش کرتے ہیں۔
حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان موجودہ کشیدگی کی وجہ کیا ہے؟
موجودہ کشیدگی کی جڑ ۲ مارچ ۲۰۲۶ء کو حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر میزائل داغے جانے ہیں، جو امریکہ اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے دوران ہوا۔ اس کے بعد اسرائیل نے لبنان پر زمینی حملے شروع کر دیے۔ حزب اللہ نے ان مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی بھی براہ راست مذاکرات کا حصہ نہیں ہے اور نہ ہی اس کے نتائج کو تسلیم کرتی ہے۔ دوسری طرف لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے حزب اللہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک "غیر ملکی مفادات کے لیے لاپرواہ مہم جوئی" سے تنگ آ چکا ہے۔
کیا امریکہ اسرائیل لبنان جنگ بندی میں غیر جانبدار ثالث ہے؟
یہ ایک اہم سوال ہے۔ اگرچہ امریکہ خود کو ثالث پیش کر رہا ہے لیکن لبنانی تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ امریکہ کو "ایماندار ثالث" کے طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔ امریکی صدر کے سخت الفاظ میں اسرائیل کو منع کرنے کے باوجود حملے جاری ہیں۔ امریکہ کا اپنا اتحادی اسرائیل کے ساتھ ہے اور وہ لبنان کو درکار مالی اور فوجی مدد فراہم کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے مبصرین اس معاہدے کو "جنگ بندی" کی بجائے "مکمل امن معاہدے" کی جانب ایک مہم جوئی قرار دے رہے ہیں۔
اقوام متحدہ اور عالمی برادری کا موقف
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے اس جنگ بندی میں توسیع کا خیرمقدم کیا ہے اور تمام فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جنگ بندی کا مکمل احترام کریں اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری کریں۔ لیکن ڈان اخبار کے اداریے کے مطابق "یہ محض سفارتی استعمال کے لیے ایک رسم ہے جبکہ بم گرتے رہتے ہیں اور لوگ مرتے رہتے ہیں"۔ عالمی برادری اگر واقعی امن چاہتی ہے تو اسے اسرائیل کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے نہ کہ محض جنگ بندی کی توسیع کی تقریبات منعقد کرنا۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سوال: کیا اسرائیل اور لبنان کے درمیان حقیقی جنگ بندی ہو گئی ہے؟
جواب: نہیں، یہ جنگ بندی صرف کاغذوں پر ہے۔ حقیقت میں اسرائیلی حملے جاری ہیں اور جنوبی لبنان میں انسانی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ یہ جنگ بندی محض سفارتی پیش رفت کا نام دیا جا رہا ہے۔
سوال: امریکہ نے اسرائیل لبنان جنگ بندی میں کیا کردار ادا کیا ہے؟
جواب: امریکہ نے ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے ۴۵ روزہ توسیع میں کامیابی حاصل کی ہے۔ لیکن وہ اسرائیل کو حملے روکنے پر مجبور کرنے میں ناکام رہا ہے، جس کی وجہ سے اس کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔
سوال: جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں کتنے افراد ہلاک ہوئے ہیں؟
جواب: حالیہ حملوں میں ۷ افراد شہید ہوئے جن میں ۳ پیرامیڈیکس اور ایک فلسطینی رہنما شامل ہیں۔ مجموعی طور پر اپریل کے بعد سے ۲۸۰۰ سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں۔
سوال: کیا اسرائیل لبنان مذاکرات کامیاب ہوں گے؟
جواب: ماہرین کے مطابق جب تک اسرائیل حملے جاری رکھے گا اور امریکہ غیر جانبدارانہ کردار ادا نہیں کرے گا، تب تک یہ مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکتے۔ حزب اللہ کا ان مذاکرات کو مسترد کرنا بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
Comments
Post a Comment