بکرا منڈی میں ڈیجیٹل انقلاب: کیا بکرا منڈی واقعی کیش لیس ہو سکتی ہے؟


قربانی کے تہوار پر پاکستان کی معیشت میں جان ڈھل جاتی ہے۔ لاکھوں جانور خریدے اور بیچے جاتے ہیں اور اندازوں کے مطابق منڈی میں کیش لیس ہونے کی کوششوں کے باوجود تقریباً ۶۰۰ ارب روپے کی نقدی ہاتھوں ہاتھ منتقل ہوتی ہے۔ یہ منظر نامہ چوری، جعلسازی اور نگرانی سے باہر کاروبار کو جنم دیتا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ۲۰۲۴ سے ’گو کیش لیس مہم‘ کے تحت ان منڈیوں کو ڈیجیٹل بنانے کی ٹھان لی ہے، لیکن کیا روایتی بکرا منڈی، جہاں سودے دست ملا کر اور نقدی گن کر طے پاتے ہیں، واقعی بدل سکتی ہے؟ آئیے اس پیچیدہ معاشی اور سماجی مسئلے کا تجزیہ کرتے ہیں۔


پس منظر اور موجودہ صورت حال: روایتی کیش معیشت کا افسانہ

ایک اندازے کے مطابق ۲۰۲۵ میں اکیلے قربانی کے موقع پر ۷۰ لاکھ سے زائد جانور ذبح کیے گئے۔ یہ منظر عام پر آنے والی معیشت کا صرف ایک حصہ ہے، جبکہ اصل حجم اس سے کہیں زیادہ ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے مطابق ۲۰۲۴ میں قربانی کے جانوروں کی فروخت کا حجم ۶۷۱.۷ ارب روپے تھا۔ یہ رقم اتنی بڑی ہے کہ اس کا موازنہ کسی چھوٹے ملک کے بجٹ سے کیا جا سکتا ہے۔

مصداقیت اور حقیقت کا تعلق یہاں اُجاگر ہوتا ہے کہ یہ تمام لین دین روایتی طور پر نقدی پر منحصر تھا۔ بیچنے والے دیہات سے جانور لے کر شہر آتے ہیں، اور خریدار اپنی جمع پونجی نقدی میں لے کر منڈی کا رخ کرتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس روایت کو توڑنا ممکن ہے؟


اسٹیٹ بینک کی حکمت عملی :ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نفاذ کیسے ہو رہا ہے؟

اسٹیٹ بینک نے محض اشتہاری مہم ہی نہیں چلائی، بلکہ عملی اقدامات اٹھائے ہیں۔ ۲۰۲۴ میں پائلٹ منصوبے کے طور پر ۴۸ منڈیوں میں یہ مہم شروع ہوئی، جو ۲۰۲۵ میں بڑھ کر ۵۴ اور ۲۰۲۶ میں ۹۶ منڈیوں تک پہنچ گئی ہے۔

بینکوں کو منڈیوں میں کیمپ لگانے، کیو آر کوڈز جاری کرنے اور فوری کھاتہ کھولنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ، اسٹیٹ بینک نے ۱۴ مئی سے ۵ جون تک عارضی طور پر لین دین کی حد میں اضافہ کر دیا ہے تاکہ اونٹ یا گائے جیسی مہنگی اشیا کی خریداری ممکن ہو سکے۔ انسٹنٹ پے نظام ’راست‘ کو فروغ دے کر بینک اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ادائیگی ہوتے ہی بیچنے والے کے کھاتے میں رقم آ جائے۔

موجودہ اعداد و شمار اور کامیابی کی شرح :کیا اعداد و شمار امید افزا ہیں؟

اعداد و شمار کچھ امید ضرور دیتے ہیں۔ ۲۰۲۴ میں صرف ۱۳,۰۰۰ لین دین ہوئے تھے جن کی مالیت ۵۶ کروڑ روپے تھی۔ لیکن ۲۰۲۵ میں یہ تعداد بڑھ کر ۶۴,۵۵۳ لین دین اور مالیت ۴.۶۵ ارب روپے تک جا پہنچی۔ اگرچہ یہ شرح نمو حیران کن (۷۳۱ فیصد) ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ رقم کل تخمینہ شدہ کاروبار کا ایک فیصد سے بھی کم ہے۔

اسی تناظر میں، یہ کہنا مشکل ہے کہ مہم مکمل طور پر کامیاب ہے۔ جہاں ایک طرف جاز کیش اور دیگر بینک ۸۵ منڈیوں میں کام کر رہے ہیں، وہیں مقامی سطح پر تاجروں کا کہنا ہے کہ تقریباً ۵۰ فیصد لین دین ڈیجیٹل ہو چکا ہے۔ تاہم، قربانی کے چند روز پہلے ہونے والی اکثریت لین دین کا ڈیٹا ابھی مکمل طور پر سامنے نہیں آیا۔


 منڈیوں میں ڈیجیٹل انقلاب کی راہ میں حائل رکاوٹیں

نیٹ ورک اور بنیادی ڈھانچہ:

سب سے بڑا مسئلہ شہر سے باہر منڈیوں میں موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ کی معیاری دستیابی کا نہ ہونا ہے۔ اگر لمحہ بھر کے لیے کنکشن جاتا رہے تو دھوکہ دہی کے امکان بڑھ جاتے ہیں۔


موبائل والیٹ کی حدود:

زیادہ تر مالیاتی ایپ صارفین کے پاس عام طور پر ونڈر لیول کے کھاتے ہوتے ہیں جن میں بڑی رقم رکھنے یا بھیجنے کی گنجائش نہیں ہوتی۔ ایک بکرا خریدنے کے لیے بھی بہت سے صارفین کو مجبوراً کیش کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

تاجروں کا عدم اعتماد:

دیہات سے آنے والے چھوٹے کسان اور تاجر بینکاری نظام پر بھروسہ نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک نقدی ہی اصل کنٹرول ہے۔ اگر وہ رقم کھاتے میں ڈالیں گے تو ٹیکس کے جال میں پھنس جانے کا خوف انہیں لاحق رہتا ہے۔


کیا پاکستان اکیلے اس مسئلے کا شکار ہے؟

درحقیقت، پاکستان اس مسئلے میں بالکل تنہا نہیں ہے۔ بنگلہ دیش، جسے بکرا عید کی سب سے بڑی منڈی سمجھا جاتا ہے، نے ۲۰۲۲ میں اسی طرح کی مرکزی بینک کی زیر قیادت مہم شروع کی تھی۔ تاہم اس کی کامیابی کے بارے میں نہ تو کوئی واضح رپورٹ ہے اور نہ ہی اعداد و شمار۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ نگرانی اور اعداد و شمار کی شفافیت اس مہم کی کامیابی کے لیے اتنی ہی ضروری ہے جتنی کہ خود ٹیکنالوجی۔

پاکستان میں دیگر شعبوں میں ڈیجیٹل ادائیگیوں میں اضافہ ہو رہا ہے (جیسے کہ شہری ریٹیل سٹورز)، لیکن زرعی منڈیوں کی نوعیت الگ ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو پاکستان ایک بڑے ڈیجیٹل تقسیم کا شکار ہو سکتا ہے جہاں شہری علاقے تو ترقی کر جائیں لیکن دیہی معیشت پیچھے رہ جائے۔


کیا منڈیاں واقعی کیش لیس ہو سکتی ہیں؟

اس سوال کا جواب ہاں اور ناں دونوں ہے۔ اسٹیٹ بینک کی کاوشیں قابل ستائش ہیں، خاص طور پر جب انہوں نے ۲۰۲۶ میں اجتماعی قربانی کے نظام کو بھی ڈیجیٹل پٹڑی پر لانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن جب تک منڈیوں میں انٹرنیٹ کی سہولت معیاری نہیں ہو جاتی، جب تک تاجروں کو بیوروکریسی کے خوف سے نکال کر انہیں یقین نہیں دلاتے کہ ڈیجیٹل رقم محفوظ ہے، اس وقت تک کیش کا استعمال ختم نہیں ہوگا۔

یہ ایک طویل سفر ہے۔ گو کیش لیس مہم کوئی جادوئی حل نہیں بلکہ ایک بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کا منصوبہ ہے۔ اگر حکومت اور اسٹیٹ بینک اسی عزم کے ساتھ آگے بڑھے تو اگلے پانچ سالوں میں ہم واقعی بکرا منڈی کو ایک نمونے کے طور پر پیش کر سکتے ہیں، ورنہ یہ ایک سالانہ مشق ہی رہ جائے گی۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات (ایچ ٹو):


۱. گو کیش لیس مہم کیا ہے اور یہ کیوں شروع کی گئی؟

یہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ایک مہم ہے جو قربانی کی منڈیوں میں نقدی کے استعمال کو کم کرنے اور ڈیجیٹل ادائیگیوں (ایپ، کیو آر کوڈ، راست) کو فروغ دینے کے لیے شروع کی گئی ہے۔ اس کا مقصد چوری روکنا، جعلی نوٹوں سے بچنا اور معیشت کو ٹریک کرنا ہے۔


۲. کیا بکرا منڈی میں ڈیجیٹل ادائیگی کرنا محفوظ ہے؟

جی ہاں، تاہم یہ انٹرنیٹ کی دستیابی پر منحصر ہے۔ اگر کنکشن گرتا ہے تو مسئلہ ہو سکتا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے ’راست‘ کے ذریعے فوری ادائیگی کا نظام لاگو کیا ہے تاکہ رقم فوری اور محفوظ طریقے سے منتقل ہو۔


۳. بکرا منڈی میں کتنے بینک حصہ لے رہے ہیں؟

۲۰۲۶ کی مہم میں ۲۲ بینک حصہ لے رہے ہیں، جبکہ ۲۰۲۵ میں یہ تعداد ۲۴ تھی۔ بینکوں نے ۹۶ منڈیوں میں کیمپ لگا رکھے ہیں جہاں وہ فوری کھاتہ کھولنے اور کیو آر کوڈز فراہم کرنے کی سہولت دے رہے ہیں۔


۴. کیا ڈیجیٹل لین دین پر ٹیکس کٹے گا؟

یہ سب سے بڑا خوف ہے۔ عام طور پر اس طرح کی مہموں میں بیچنے والوں کو تحفظ دیا جاتا ہے، لیکن قانونی طور پر اگر رقم بینک کھاتے میں جا رہی ہے تو یہ ٹیکس نیٹ ورک میں آ سکتی ہے۔ اس حوالے سے ابھی کوئی واضح استثنیٰ فراہم نہیں کیا گیا۔


۵. کیا موبائل والیٹ کی حد بڑھا دی گئی ہے؟

جی ہاں، ۱۴ مئی سے ۵ جون ۲۰۲۶ تک عارضی طور پر لین دین اور کھاتے کی حد میں اضافہ کیا گیا ہے تاکہ خریدار بغیر کسی رکاوٹ کے مہنگے جانور خرید سکیں۔


Comments

Popular posts from this blog

محمد عامر کی ایک بار پھر کاؤنٹی کرکٹ میں واپسی امیدیں اور خدشات

سوڈان میں اخوان المسلمون کی پابندی: ریاستی استحکام کے لیے ایک تاریخی فیصلہ

آبنائے ہرمز سے نیویارک تک: خلیجی ممالک کی نئی عالمی حکمت عملی