کوئٹہ کے پہاڑوں میں فتح: ۳۵ دہشت گرد ہلاک، تین کمانڈر گرفتار


صوبہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی سامنے آئی ہے۔ صوبائی دارالحکومت کے قریب منگلا زرقون کے پہاڑی سلسلے میں جاری انٹیلیجنس بنیادوں پر کئے جانے والے آپریشن میں کم از کم ۳۵ دہشت گرد ہلاک جبکہ تین اہم کمانڈروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ۱۳ مئی کو شروع ہوئی اور مسلسل چار دن جاری رہی، جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کے سب سے بڑے ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔


کیا منگلا زرقون کے علاقے میں دہشت گردوں کے کیمپ تھے؟

بالکل ایسا ہی تھا۔ منگلا زرقون کا یہ پہاڑی علاقہ طویل عرصے سے دہشت گرد تنظیموں کے لیے پناہ گاہ کا کام دے رہا تھا۔ بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے اس کارروائی میں متعدد تربیتی کیمپ اور خفیہ ٹھکانے تباہ کر دیے۔ یہ وہی پہاڑیاں ہیں جہاں سے حال ہی میں کوئٹہ شہر پر راکٹ حملے کئے گئے تھے، جس کے بعد شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔ فورسز نے اس آپریشن کو خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر انجام دیا، جس سے پتہ چلا کہ یہ علاقہ دراصل فوجی اہداف کے خلاف سازشوں کا مرکز بنا ہوا تھا۔


پکڑے گئے کمانڈروں سے کیا اہم معلومات ملی ہیں؟

اس آپریشن کی سب سے اہم کامیابی تین کمانڈروں کی گرفتاری ہے۔ ان کمانڈروں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی، لیکن بتایا جاتا ہے کہ یہ نام نہاد "فتنہ الخوارج" اور "فتنہ الہند" سے منسلک تھے۔ ذرائع کے مطابق ان کے قبضے سے بہت اہم خفیہ معلومات ہاتھ لگی ہیں۔ ان معلومات کی بنیاد پر دوسرے شہروں میں بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں جس سے دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور ان کے مالی معاونوں تک رسائی ممکن ہو سکے گی۔ یہی وجہ ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس کی بنیاد پر مزید کارروائیوں کو تیز کر دیا ہے۔


کوئٹہ آپریشن کے بعد شہریوں پر کیا پابندیاں عائد ہیں؟

اس آپریشن کے پیش نظر اور ممکنہ جوابی کارروائیوں سے بچنے کے لیے صوبہ بلوچستان میں ایک چووالیس کا نفاذ کر دیا گیا ہے۔ اس کے تحت:

موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی

اسلحے کی نمائش اور استعمال پر پابندی

پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی

چہرے کو ڈھانپنے پر پابندی

بغیر نمبر پلیٹ کی گاڑیوں پر پابندی

یہ پابندیاں اگلے ۳۰ دنوں تک جاری رہیں گی تاکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روک سکیں۔ حکومت نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان پابندیوں پر عمل کریں اور مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دیں۔


کیا ریلوے خدمات بھی متاثر ہوئی ہیں؟

جی ہاں، مکمل احتیاط کے طور پر پاکستان ریلویز نے کوئٹہ سے جانے والی چند ٹرینوں کی خدمات کو دو دن کے لیے معطل کر دیا تھا۔ یہ اقدام سیکیورٹی کی صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، گزشتہ ہفتے مستونگ میں ایک اہم پل کو دھماکے سے اڑا دیا گیا تھا اور ایران سے آنے والے مال بردار ٹرکوں کو آگ لگا دی گئی تھی۔ ان واقعات نے خدشات کو بڑھا دیا تھا، جس کے بعد فورسز نے یہ بڑا آپریشن کیا۔


کیا یہ آپریشن دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فیصلہ کن ثابت ہوگا؟

یہ سوال یقیناً اہم ہے۔ یہ آپریشن درحقیقت ریاست کی سخت پالیسی کا عکاس ہے کہ دہشت گردوں کو کوئی مہلت نہیں دی جائے گی۔ بلوچستان حکومت کے مشیر برائے داخلہ بابر یوسفزئی نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی مزید تیز کی جائے گی۔

تاہم، دہشت گردی کا خاتمہ صرف فوجی کارروائیوں سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے علاقائی ترقی، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ دہشت گردی کی جڑیں سیاسی بدامنی اور معاشی پسماندگی میں ہیں۔ لہٰذا، یہ آپریشن ایک عارضی حل ہے جبکہ مستقل حل کے لیے امن کے لیے طویل المدتی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ سیکیورٹی فورسز کو سلام ہے جنہوں نے جان خطرے میں ڈال کر یہ کامیابی حاصل کی، لیکن اب ذمہ داری حکومت کی ہے کہ وہ اس علاقے میں روشنی لائے۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: کوئٹہ آپریشن میں کتنے دہشت گرد مارے گئے؟

جواب: بلوچستان حکومت کے مطابق منگلا زرقون کے علاقے میں جاری انٹیلیجنس بنیادوں پر کئے گئے آپریشن میں ۳۵ دہشت گرد ہلاک اور تین کمانڈروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

سوال: کیا پوری صوبے میں ایک چووالیس لاگو ہے؟

جواب: جی ہاں، بلوچستان کے محکمہ داخلہ نے پورے صوبے میں ایک چووالیس کا نفاذ کر دیا ہے۔ ڈبل سواری، اسلحے کی نمائش اور پانچ سے زیادہ افراد کے اجتماع پر پابندی عائد ہے۔

سوال: کیا یہ آپریشن صرف فوج نے کیا؟

جواب: یہ مشترکہ آپریشن تھا جس میں پاکستان فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلیجنس ایجنسیوں نے مل کر کام کیا۔

سوال: منگلا زرقون کا علاقہ کہاں واقع ہے؟

جواب: منگلا زرقون کا پہاڑی سلسلہ ضلع کوئٹہ کے نواحی علاقے میں واقع ہے اور یہ دہشت گردوں کی پناہ گاہ رہا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

محمد عامر کی ایک بار پھر کاؤنٹی کرکٹ میں واپسی امیدیں اور خدشات

سوڈان میں اخوان المسلمون کی پابندی: ریاستی استحکام کے لیے ایک تاریخی فیصلہ

آبنائے ہرمز سے نیویارک تک: خلیجی ممالک کی نئی عالمی حکمت عملی