خیبر میں بھارت کے دہشت گردوں کا خاتمہ: فوج کی کامیاب کارروائی


پاکستان کے حفاظتی دستوں نے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں خفیہ معلومات پر مبنی آپریشن کے دوران ۲۲ دہشت گرد ہلاک کر دیئے۔ یہ کامیاب کارروائی جمعرات کو پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے بیان میں سامنے آئی، جس نے ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک نیا باب رقم کر دیا۔


خیبر میں حفاظتی دستوں کا آپریشن کیسے کامیاب ہوا؟

پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے مطابق، یہ آپریشن ۲۱ اپریل بروز منگل کو دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کیا گیا۔ دورانِ کارروائی شدید فائرنگ کے بعد دستوں نے مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے “۲۲ خوارج کو جہنم واصل کر دیا”۔ یہ تمام دہشت گرد بھارتی سرپرستی یافتہ فتنہ الخوارج سے تعلق رکھتے تھے۔


فتنہ الخوارج کون ہے اور ہندوستان کا اس میں کیا کردار ہے؟

ریاست کی جانب سے فتنہ الخوارج کی اصطلاح ممنوعہ تحریک طالبان پاکستان کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ یہ گروہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کی سرپرستی میں کام کر رہا ہے تاکہ پاکستان کو غیر مستحکم کیا جا سکے۔ حال ہی میں شمالی وزیرستان میں ہونے والی ایک تحقیقات میں بھی بھارت کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا تھا۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران حفاظتی دستوں کے متعدد آپریشنز میں ان ہندوستانی سرپرستی یافتہ خوارج کو ہلاک کیا گیا ہے۔


کیا بھارت واقعتاً پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے؟

تحلیل کے مطابق، بھارت نے ہمیشہ پاکستان کو انتشار کا شکار کرنے کی کوششیں کی ہیں۔ جہاں ایک طرف بھارت کشمیر میں مقبوضہ علاقوں میں مظالم ڈھا رہا ہے، وہیں دوسری طرف پاکستان میں دہشت گردوں کی سرپرستی کر رہا ہے۔ فتنہ الخوارج جیسے گروہ بھارت کا آلۂ کار ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عالمی برادری اس بھارتی دہشت گردی پر خاموشی کیوں اختیار کیے ہوئے ہے؟


خیبر میں کارروائی کے دوران ۱۰ سالہ بچے کی شہادت پر حکومت کا ردعمل کیا ہے؟

اس کارروائی کے دوران دہشت گردوں کی بزدلانہ اور اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں ایک ۱۰ سالہ معصوم بچہ شہید ہو گیا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے بچے کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور اسے انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ “دہشت گردوں نے جان بچانے کے لیے جو اندھا دھند فائرنگ کی، اس کے نتیجے میں ایک بچے کی جان چلی گئی”۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ دہشت کے خلاف جنگ اس کے مکمل خاتمے تک جاری رہے گی۔

آپریشن عزم استحکام کے تحت دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں کیوں تیز کی گئی ہیں؟

واضح رہے کہ ۲۰۲۵ کے دوران پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ۳۴ فیصد اضافہ ہوا تھا۔ اس بڑھتی ہوئی لہر کو روکنے کے لیے وفاقی ایکشن کمیٹی نے “آپریشن عزم استحکام” کی منظوری دی۔ یہ آپریشن دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک جامع حکمت عملی ہے۔ پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ نے واضح کیا ہے کہ یہ کارروائیاں پوری رفتار سے جاری رہیں گی اور بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا۔


ایچ دو: پاک فوج کا دہشت کے خلاف جنگ میں عوام سے اتحاد کیوں ضروری ہے؟

اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو دہشت گرد شہری علاقوں کو ڈھال بنا کر حملے کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فوج اور عوام کا اتحاد انتہائی ضروری ہے۔ خیبر میں صفائی کا آپریشن جاری ہے تاکہ علاقے کو مکمل طور پر دہشت گردوں سے پاک کر دیا جائے اور مستقبل میں کسی بھی قسم کے حملے کو ناکام بنایا جا سکے۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: خیبر آپریشن میں کتنے دہشت گرد مارے گئے؟

جواب: پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے مطابق، ضلع خیبر میں ہونے والے خفیہ معلومات پر مبنی آپریشن میں کل ۲۲ دہشت گرد ہلاک ہوئے۔

سوال: فتنہ الخوارج کسے کہا جاتا ہے؟

جواب: فتنہ الخوارج ریاست کی طرف سے دی گئی وہ اصطلاح ہے جو تحریک طالبان پاکستان جیسے شدت پسند گروہوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جنہیں پاکستان میں غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے۔

سوال: آپریشن عزم استحکام کیا ہے؟

جواب: یہ ایک قومی سطح پر طے شدہ آپریشن ہے جسے وفاقی ایکشن کمیٹی نے جون ۲۰۲۴ میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے منظور کیا تھا۔ اس کا مقصد ملک میں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہے۔

سوال: اس آپریشن کے بعد صفائی کی کارروائی کیوں ضروری ہے؟

جواب: علاقے میں موجود کسی بھی دوسرے روپوش دہشت گرد کو ختم کرنے اور علاقے کو مکمل طور پر محفوظ بنانے کے لیے صفائی کی کارروائی کی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی دہشت گردی کی کوشش کو ناکام بنایا جا سکے۔

Comments

Popular posts from this blog

محمد عامر کی ایک بار پھر کاؤنٹی کرکٹ میں واپسی امیدیں اور خدشات

سوڈان میں اخوان المسلمون کی پابندی: ریاستی استحکام کے لیے ایک تاریخی فیصلہ

ٹرمپ کی کامیابی کا راز: خلیجی اتحادیوں کا تحفظ کیوں ضروری ہے؟