کراچی میں گرمی کی تباہ کاریاں: آٹھ سال بعد درجہ حرارت ۴۴.۱ ڈگری، ۱۰ افراد جاں بحق


کراچی — ایسا لگ رہا تھا جیسے شہر میں آگ برس رہی ہو۔ پیر ۴ مئی ۲۰۲۶ کو کراچی نے آٹھ سال کا گرم ترین دن ریکارڈ کیا۔ پارہ ۴۴.۱ ڈگری سیلسیس تک جا پہنچا —— یہ درجہ حرارت اتنا بڑھ گیا کہ سڑکوں پر ۱۰ لاشیں ملیں۔ ایڈھی فاؤنڈیشن اور چھپیا ویلفیئر ایسوسی ایشن کے مطابق یہ اموات براہِ راست شدید گرمی کی لہر کا نتیجہ تھیں ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف گرمی قاتل بنی؟ یا پھر شہری خدمات کی ناکامی نے اس قدرتی آفت کو انسانی سانحے میں بدل دیا؟


شدید گرمی کی لہر سے اموات کی کیا وجوہات ہیں؟

ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں اکثر منشیات کے عادی افراد شامل تھے۔ ریسکیو اہلکاروں کا کہنا ہے کہ لاشیں مختلف علاقوں سے ملیں جن میں منگھو پیر، گلشن حدید، ڈیفنس فیز ۸، اور سرجانی ٹاؤن جیسے علاقے شامل ہیں ۔ درحقیقت، گرمی نے ان لوگوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا جو پہلے سے کمزور تھے۔ منشیات کے استعمال کی وجہ سے جسم میں پانی کی کمی اور برداشت کی صلاحیت میں کمی آچکی تھی، اور ۴۴ ڈگری کی تپش نے ان کے لیے موت کا سامان فراہم کر دیا۔ پولیس سرجن ڈاکٹر ثُمیّہ سید کے مطابق ان میں سے ۷ لاشیں نامعلوم ہیں، جو اس تلخ حقیقت کی عکاس ہیں کہ شہر کے کتنے لوگ بے یار و مددگار ہیں ۔


درجہ حرارت نے شہریوں کی زندگیوں پر کیا اثرات مرتب کیے؟

محکمہ موسمیات کے مطابق پیر کو نہ صرف درجہ حرارت نے ریکارڈ توڑ دیا بلکہ یہ معمول سے ۷.۸ ڈگری زیادہ تھا ۔ اس تپش نے اسکولوں اور کالجوں میں ہونے والے امتحانات کو بھی متاثر کیا۔ طلبہ کو امتحانی مراکز میں بیٹھنا مشکل ہو رہا تھا، اور اوپر سے لوڈ شیڈنگ نے مصائب میں اضافہ کر دیا۔ اسپتالوں میں گرمی سے متعلقہ بیماریوں جیسے ہیٹ اسٹروک اور پانی کی کمی کے مریضوں کی تعداد میں ۲۰ فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔ پلمونری ماہر ڈاکٹر جاوید خان کے مطابق شدید گرمی کی وجہ سے سانس کی بیماریوں میں بھی اسی شرح سے اضافہ ہوا ۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ گرمی نے ایک وبا کی شکل اختیار کر لی تھی۔

کراچی میں لوڈ شیڈنگ اور پانی کی قلت نے گرمی کی شدت کو کیسے بڑھایا؟

کراچی کے عوام کے لیے گرمی صرف قدرتی مسئلہ نہیں تھی، بلکہ ایک انسانی ساختہ بحران بھی تھا۔ رہائشیوں کا الزام ہے کہ کے-الیکٹرک نے گرمی کے اس عروج پر لوڈ شیڈنگ میں اضافہ کر دیا، بعض علاقوں میں ۱۶ گھنٹے تک بجلی نہیں تھی ۔ بجلی نہ ہونے کا مطلب تھا پنکھے، کولر اور اے سی بند —— اور اس شدت میں عوام کو چولہے پر کھانا پکانے جیسے معمولی کام بھی عذاب لگ رہے تھے۔ دوسری جانب، پانی کی قلت نے صورتحال کو مزید خطرناک بنا دیا۔ جہاں شہری خدمات ناکام ہوں، وہاں قدرتی آفات کے اثرات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ نے صورتحال پر افسوس کا اظہار کیا اور لاشوں کی شناخت کے احکامات جاری کیے، لیکن عملی اقدامات کے بغیر یہ محض ایک رسمی بیان ہے ۔


کیا کراچی کے اسپتال ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کے لیے تیار تھے؟

یہ سوال اس وقت اہم ہو جاتا ہے جب ایمرجنسی میں مریضوں کی آمد بڑھ جاتی ہے۔ این ڈی ایم اے نے ملک بھر میں ہیٹ ایمرجنسی پروٹوکول جاری کرتے ہوئے اسپتالوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی تھی ۔ مگر کیا کراچی کے سرکاری اسپتال اس کے لیے تیار تھے؟ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاشیں تو اسپتال پہنچیں، لیکن ان میں سے اکثر کو طبی امداد فراہم کرنے سے پہلے ہی جان کی بازی ہار چکے تھے ۔ ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ شہری خاص طور پر دوپہر ۱۱ بجے سے شام ۳ بجے کے درمیان گھروں سے باہر نہ نکلیں، اور زیادہ سے زیادہ پانی پیئیں ۔ یہ احتیاطی تدابیر اگر وقت پر اپنا لی جائیں تو بہت سی جانیں بچائی جا سکتی تھیں، مگر شہری حکومت کی طرف سے وارننگ سسٹم ناکافی ثابت ہوا۔


منشیات کے عادی افراد گرمی کی لہر میں زیادہ غیر محفوظ کیوں ہیں؟

ماہرین کے مطابق منشیات کا استعمال جسم کے تھرمورگولیشن سسٹم کو تباہ کر دیتا ہے۔ نشے کی حالت میں انسان پیاس محسوس نہیں کرتا، جس کی وجہ سے جسم میں پانی کی سطح خطرناک حد تک گر جاتی ہے۔ جب باہر کا درجہ حرارت ۴۴ ڈگری ہو اور ہوا میں نمی نہ ہو (پیر کو محض ۱۷ فیصد نمی تھی )، تو یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی بھٹی میں کھڑے ہو کر دھوپ کھائی جائے۔ ایڈھی فاؤنڈیشن کے مطابق جو لاشیں ملیں، ان میں سے زیادہ تر منشیات کے عادی تھے ۔ یہ ہمارے معاشرے کی اس بدصورت حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ ہم نے ان لوگوں کو سڑکوں پر چھوڑ دیا ہے، اور جب قدرتی آفت آتی ہے تو وہ سب سے پہلے ختم ہوتے ہیں۔


موسمیاتی تبدیلی کراچی جیسے شہروں کے لیے کیا خطرات پیدا کر رہی ہے؟

ماہرین موسمیات نے طویل عرصے سے خبردار کیا تھا کہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے برصغیر میں گرمی کی لہریں زیادہ بار بار اور شدید آئیں گی۔ کراچی میں ۲۰۱۸ کے بعد یہ گرم ترین دن تھا ۔ لیکن تشویشناک بات یہ ہے کہ محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ مئی کے دوسرے ہفتے بعد درجہ حرارت میں دوبارہ اضافہ ہوگا ۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ صرف ایک عارضی طوفان نہیں، بلکہ ایک نیا معمول ہے جس کے لیے ہمیں تیار رہنا ہوگا۔ اگر شہر کی منصوبہ بندی اور ہنگامی خدمات میں فوری اصلاحات نہ کی گئیں، تو آنے والے سالوں میں یہ اعداد واشماری مزید بڑھ جائے گی۔


نتائج — گرمی کا وار اور حکومت کی بے اعتنائی

جس دن کراچی میں درجہ حرارت ۴۴.۱ ڈگری ریکارڈ ہوا، اس دن جو ہوا وہ ایک المیہ ہے۔ ۱۰ جانیں ضائع ہوگئیں —— کچھ شدید گرمی سے تو کچھ اس لیے کہ کوئی ان کی خبر لینے والا نہ تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم بطور معاشرہ اتنا بے حس ہو چکے ہیں کہ سڑکوں پر لاشیں پڑی رہیں اور ہم صرف اعداد و شمار گنتے رہیں؟ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے پروٹوکول جاری کیے ، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ سندھ کے دیہی علاقوں میں ۱۸ سے ۲۲ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے ۔ جب تک بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی نہیں بنایا جاتا، اتنی ہی رپورٹیں لکھی جائیں، ناکافی ہیں۔ یہ وقت حکمرانوں کے لیے سبق کا ہے کہ وہ فوری طور پر شہری انفراسٹرکچر کو مضبوط کریں، وارننگ سسٹم کو فعال کریں، اور سب سے اہم بات، شہریوں کو گرمی سے بچانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: کراچی میں گرمی کی لہر سے اموات کی اصل تعداد کیا ہے؟

جواب: ایڈھی فاؤنڈیشن اور چھپیا ویلفیئر ایسوسی ایشن کے مطابق پیر ۴ مئی کو شدید گرمی کے باعث ۱۰ افراد جاں بحق ہوئے۔ یہ اعداد و شمار کراچی کے مختلف علاقوں سے ملی لاشوں پر مبنی ہیں ۔

سوال: کراچی کا درجہ حرارت ۴۴.۱ ڈگری سیلسیس پر پہنچنے کے بعد کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں؟

جواب: ماہرین دوپہر ۱۱ بجے سے شام ۳ بجے کے درمیان گھر سے باہر نکلنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ زیادہ سے زیادہ پانی پینا، ہلکے رنگ کے ڈھیلے کپڑے پہننا اور باہر جاتے وقت سر ڈھانپنا ضروری ہے ۔

سوال: کراچی میں شدید گرمی کی صورتحال میں اسپتال کس طرح مدد فراہم کر رہے ہیں؟

جواب: شہر کے اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک اور سانس کی بیماریوں کے مریضوں کی تعداد میں ۲۰ فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔ این ڈی ایم اے نے اسپتالوں کو الرٹ رکھنے کی ہدایت کی ہے، مگر میڈیکل سہولیات تک رسائی ایک چیلنج ہے۔

سوال: کیا موسمیاتی تبدیلی کراچی میں درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ ہے؟

جواب: جی ہاں، ماہرین موسمیات کے مطابق گلوبل وارمنگ کی وجہ سے خطے میں گرمی کی لہریں زیادہ شدید اور بار بار آ رہی ہیں۔ کراچی میں ۲۰۱۸ کے بعد یہ گرم ترین دن ریکارڈ کیا گیا ۔

Comments

Popular posts from this blog

محمد عامر کی ایک بار پھر کاؤنٹی کرکٹ میں واپسی امیدیں اور خدشات

سوڈان میں اخوان المسلمون کی پابندی: ریاستی استحکام کے لیے ایک تاریخی فیصلہ

ٹرمپ کی کامیابی کا راز: خلیجی اتحادیوں کا تحفظ کیوں ضروری ہے؟