ابراہیم معاہدوں کی ٹھوکر: سعودی عرب نے اسرائیل کو فلسطین کا راستہ دکھا دیا
کچھ عرصہ پہلے تک یہ سمجھا جا رہا تھا کہ مشرق وسطیٰ کی سمت ابراہیم معاہدے طے کر رہے ہیں، لیکن گزشتہ چند ماہ کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ یہ معاہدے اس وقت تک ادھورے ہیں جب تک ان میں سعودی عرب شامل نہ ہو۔ اور اب سعودی عرب نے نہ صرف انکار کیا ہے، بلکہ اسرائیل کو ایک واضح راستہ دکھا دیا ہے: فلسطینی ریاست کا قیام۔
ابراہیم معاہدے اپنی اہمیت کیوں کھو رہے ہیں؟
ابراہیم معاہدے متحدہ عرب امارات اور بحرین جیسے ممالک پر مشتمل تھے، جو سعودی عرب کے مقابلے میں چھوٹے اور کم اثر رکھنے والے ہیں ۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، ان معاہدوں نے عوام میں وہ تبدیلیاں نہیں لائیں جن کا وعدہ کیا گیا تھا، اور خاص طور پر جب فلسطینیوں پر ظلم بڑھا تو ان معاہدوں کی مقبولیت صفر ہو گئی۔ سعودی عرب نے یہ دیکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی بدل لی۔
The Abraham Accords, once touted as a breakthrough, have quietly moved, in Saudi political conversation, into the deep freeze. Once US President Donald J. Trump, without Saudi Arabia lifting a finger, relieved the kingdom of its foremost adversary, Iran, and removed the major…
— Gatestone Institute (@GatestoneInst) May 10, 2026
کیا فلسطینی ریاست کے بغیر امن ممکن ہے؟
یہ وہ سوال ہے جو ہر امن کانفرنس میں اٹھتا ہے۔ سعودی عرب کا جواب ہے: ہرگز نہیں۔ دو ریاستی حل کے بغیر نہ صرف امن خطرے میں ہے، بلکہ پورا خطہ مسلسل تشدد کی لپیٹ میں رہے گا۔ سعودی سفارت کاروں کے مطابق، "جنگ کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ فلسطینیوں کو بھی اپنی ریاست ملے، ورنہ آج نہیں تو کل، یہ مسئلہ پھر سر اٹھا کھڑا ہوگا۔"
سعودی شرائط پر اسرائیل کیوں غور کرے گا؟
اسرائیل کے پاس دو ہی راستے ہیں: یا تو وہ عالمی تنہائی قبول کرے، یا پھر سعودی شرائط کو مانے۔ سعودی عرب علاقائی طاقت کا درجہ رکھتا ہے۔ اگر اسرائیل سعودی شرائط (فلسطینی ریاست) کو مان لیتا ہے، تو نہ صرف اسے سعودی عرب بلکہ پوری مسلم دنیا کی پہچان مل جائے گی۔ دوسری جانب، ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل نے ان شرائط کو نظر انداز کیا تو وہ مشرق وسطیٰ میں ہمیشہ ایک "غیر مستحکم" ریاست بنا رہے گا۔
خلیجی سیاست میں نئے اتحاد
سعودی عرب کا یہ فیصلہ ایک نئی خلیجی سیاست کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ وہ اب خود مختارانہ فیصلے کر رہا ہے، نہ کہ صرف امریکی دباؤ میں۔ ابراہیم معاہدے اس لیئے بھی کمزور ہوئے ہیں کیونکہ خلیجی ممالک اب سمجھ گئے ہیں کہ ایران کا خطرہ کم ہو چکا ہے، اور اب انہیں فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ اپنی عوام کی حمایت حاصل کر سکیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
سوال: کیا متحدہ عرب امارات نے سعودی فیصلے پر ردعمل دیا؟
متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب کی خود مختاری کا احترام کرتے ہوئے کوئی منفی ردعمل نہیں دیا۔ وہ اپنے تجارتی اور سفارتی تعلقات کو برقرار رکھے ہوئے ہے، البتہ اس نے کہا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے حقوق کی حامی ہے۔
سوال: کیا پاکستان اس صورتحال میں کوئی کردار ادا کر سکتا ہے؟
پاکستان نے سعودی موقف کو سراہا ہے۔ وہ دونوں ممالک کے درمیان پل کا کردار تو ادا کر سکتا ہے، لیکن وہ خود بھی چاہتا ہے کہ فلسطینی ریاست قائم ہو۔
سوال: کیا یہ موقف مستقل ہے یا عارضی؟
سعودی عرب نے اسے مستقل قرار دیا ہے۔ جب تک فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوتی، ان کا یہ مؤقف برقرار رہے گا۔
سوال: اسرائیل کا اس پر کیا ردعمل ہے؟
ابتدائی طور پر اسرائیلی وزیراعظم نے اسے "ناقابل عمل" قرار دیا تھا، لیکن بعد میں انہوں نے کہا کہ وہ سعودی شرائط پر غور کر سکتے ہیں بشرطیکہ ان کی سلامتی کو خطرہ نہ ہو۔
Comments
Post a Comment