ہارمز کی آبنائے سے جوہری پروگرام تک: ایران کی شرائط پر ٹرمپ کی ’ٹوٹلی ان اکسپٹیبل‘ کیوں؟


ایک بار پھر مشرق وسطیٰ میں امن کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی ہو گئی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے امن منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’ٹوٹلی ان اکسپٹیبل‘ (مکمل طور پر ناقابل قبول) قرار دیا ہے۔ یہ انکار ایسے میں سامنے آیا ہے جب پوری دنیا کی نظریں پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی ان بالواسطہ گفتگو پر لگی ہوئی تھیں، جو دو ماہ سے زائد عرصے سے جاری خلیجی تنازع کو ختم کرنے کی آخری امید نظر آ رہی تھیں۔


امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کی وجہ کیا ہے؟

یہ تنازع فروری 2026 میں اس وقت شروع ہوا جب جوہری مذاکرات کے دوران امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کر دیے۔ اس کے بعد سے خلیج کا یہ علاقہ شدید کشیدگی کا شکار ہے اور دونوں اطراف میں فوجی تیاریاں جاری ہیں۔ اس دو ماہ سے زائد عرصے میں جہاں ایک طرف امریکی جنگی بحری جہاز ایران کی ناکہ بندی کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف ایران نے ہارمز کی آبنائے کو بند کر رکھا ہے، جس سے عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہوئی ہے اور قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں۔

پاکستان ایران امریکہ ثالثی میں کیا کردار ادا کر رہا ہے؟

پاکستان نے اس مشکل گھڑی میں ثالثی کی ذمہ داری نبھائی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے تصدیق کی کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی کاوشوں سے ایران کا جواب واشنگٹن پہنچایا گیا۔ تاہم جب یہ جواب ٹرمپ کے سامنے پہنچا تو انہوں نے اسے پڑھتے ہی سخت ردعمل دیا۔


ایران کی وہ کون سی شرائط تھیں جنہیں ٹرمپ نے ناقابل قبول قرار دیا؟

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق، تہران کا مطالبہ تھا کہ:

جنگ کا خاتمہ: جنگ فوری طور پر تمام محاذوں پر بند ہو، بشمول لبنان۔

ہارمز کی آبنائے: ایران کی خودمختاری کو تسلیم کرتے ہوئے یہاں امریکی ناکہ بندی ختم کی جائے۔

منجمد اثاثے اور پابندیاں: امریکہ ایران کے تمام منجمد اثاثے واپس کرے اور اس پر عائد تمام پابندیاں ختم کرے۔


معاوضہ: ایران کو جنگی نقصانات کا معاوضہ ادا کیا جائے۔

اس کے برعکس، امریکہ چاہتا تھا کہ ایران سب سے پہلے اپنا جوہری پروگرام بند کرے، افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کرے اور ہارمز کی آبنائے کو کھولے، اس سے پہلے کہ دیگر معاملات پر بات ہو۔


کیا ایران کا جوہری پروگرام واقعی خطرہ ہے؟

امریکہ کے لیے یہ ایک ریڈ لائن (سرخ لکیر) ہے۔ ٹرمپ کا اصرار ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔ تاہم ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور یہ کہ امریکی منصوبہ ’ہتھیار ڈالنے‘ کے مترادف ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ ’مذاکرات کا مطلب ہتھیار ڈالنا یا پسپائی نہیں ہے۔‘


کیا امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ جنگ شروع ہو سکتی ہے؟

یہ بڑا سوال ہے۔ امریکی سفیر مائیک والٹز نے اشارہ دیا ہے کہ ٹرمپ سفارت کاری کو موقع دے رہے ہیں، لیکن وہ کارروائی کرنے سے بھی نہیں ہچکچائیں گے۔ دوسری طرف ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ کوئی ’حکمت عملی کی غلطی‘ کرتا ہے تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔

یہ تعطل ظاہر کرتا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد کی خلی بہت گہری ہے۔ جہاں ایک طرف ایران اپنی خودمختاری اور معاشی مفادات پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں، وہیں دوسری طرف ٹرمپ انتظامیہ ایران کی جوہری صلاحیتوں کو برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ جب تک کوئی تیسرا فریق یا کوئی نیا فارمولا سامنے نہیں آتا، یہ بحران مزید گہرا ہوتا دکھائی دے رہا ہے، اور خطے میں ایک نئے اور خوفناک فوجی تصادم کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔


سوالات و جوابات (FAQs)

سوال: امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ کی وجہ کیا ہے؟

جواب: یہ جنگ فروری 2026 میں اس وقت شروع ہوئی جب جوہری مذاکرات کے دوران امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کر دیے۔ اس کے بعد سے خلیج کے علاقے میں شدید فوجی کشیدگی ہے اور ہارمز کی آبنائے کو بند کر دیا گیا ہے۔

سوال: ٹرمپ نے ایران کے امن منصوبے کو کیوں مسترد کر دیا؟

جواب: ٹرمپ نے ایران کی شرائط کو ’مکمل طور پر ناقابل قبول‘ قرار دیا کیونکہ ایران نے فوری طور پر اپنا جوہری پروگرام بند کرنے سے انکار کر دیا اور ہارمز کی آبنائے پر اپنی خودمختاری برقرار رکھنے پر زور دیا۔

سوال: پاکستان اس تنازع میں کیا کردار ادا کر رہا ہے؟

جواب: پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث کی حیثیت سے کام کر رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ایران کا امن منصوبہ واشنگٹن پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

سوال: ہارمز کی آبنائے کی بندش کا عالمی اثر کیا ہے؟

جواب: ہارمز کی آبنائے سے دنیا کی 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس کی بندش کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں، جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

محمد عامر کی ایک بار پھر کاؤنٹی کرکٹ میں واپسی امیدیں اور خدشات

سوڈان میں اخوان المسلمون کی پابندی: ریاستی استحکام کے لیے ایک تاریخی فیصلہ

ٹرمپ کی کامیابی کا راز: خلیجی اتحادیوں کا تحفظ کیوں ضروری ہے؟