پاکستان کی فیصلہ کن جواب دہی: افغان جارحیت کے تناظر میں ایک تجزیہ.
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کا تازہ بیان کہ افغانستان کی جانب سے جارحیت کے جواب میں پاکستان کی افواج فیصلہ کن کارروائی کر رہی ہیں، موجودہ سرحدی کشیدگی کی شدت کو واضح کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان کی حکومت کے بعد افغانستان میں امن کی بجائے دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیاں بڑھی ہیں اور پاکستان نے سفارتی سطح پر ہر ممکن کوشش کی مگر اب صبر ختم ہو چکا ہے۔ آپریشن غضب لل حق کے تحت کی گئی کارروائیوں میں متعدد افغان پوسٹس، گولہ بارود کے ڈپو، بٹالین ہیڈ کوارٹرز اور دیگر فوجی اثاثوں کی تباہی اور 133 سے زائد افغان شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے جبکہ 200 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ یہ پیش رفت ایک طرف پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور خودمختاری کے تحفظ کی عزم کو ظاہر کرتی ہے تو دوسری طرف یہ بھی دکھاتی ہے کہ سرحدی علاقوں میں جاری یہ چکر تشدد کا دونوں ممالک کے عوام اور علاقائی استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ وزیر دفاع کا یہ بھی کہنا کہ پاکستان ہمسایہ ملک ہے اور دور دراز سے آنے والی افواج کی طرح نہیں بلکہ اپنی سرحدوں کی حفاظت میں مکمل طور پر قادر ہے، ایک دفاعی موقف ہے جو قومی جذبات کو بھی ابھارتا ہے مگر ساتھ ہی یہ ضرورت بھی پیدا کرتا ہے کہ تشدد کے بجائے مستقل حل تلاش کیا جائے۔
یہ صورتحال تاریخی تنازعات جیسے ڈیورنڈ لائن، دہشت گردی کے الزامات اور ماضی کی ناکام سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے جو اب فوجی سطح پر ظاہر ہو رہی ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ افغانستان سے آنے والی جارحیت اور دہشت گردی کے خلاف جواب دینا ناگزیر تھا جبکہ یہ بیانات افغان طالبان کی جانب سے پاکستان کو نشانہ بنانے کے الزامات کا جواب ہیں۔ انسانی نقصانات، فوجی اثاثوں کی تباہی اور ممکنہ طور پر شہری علاقوں پر اثرات یہ بتاتے ہیں کہ یہ تصادم کسی بھی فریق کے لیے فائدہ مند نہیں۔ وزیر دفاع کا یہ بھی ذکر کہ پاکستان نے افغان مہاجرین کی میزبانی کی اور علاقائی امن کے لیے کوششیں کیں مگر اب جارحیت کا جواب دیا جا رہا ہے، ایک جامع تناظر پیش کرتا ہے۔ تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ فوجی برتری یا جوابی کارروائیاں عارضی سکون تو دے سکتی ہیں مگر دیرپا امن کے لیے دونوں ممالک کو بات چیت، مشترکہ انٹیلی جنس شیئرنگ اور سرحدی انتظام میں تعاون کی طرف واپس آنا ہو گا۔ بین الاقوامی برادری کی اپیلز اور ماضی کی ثالثی کوششیں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ بیرونی مدد بھی ممکن ہے مگر اصل حل دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کی بحالی میں ہے۔
آخر میں، یہ کشیدگی خطے کے لیے ایک وارننگ ہے کہ اگر فوری طور پر ڈی ایسکلیشن نہ ہوئی تو یہ مزید وسیع ہو سکتی ہے جو دونوں ممالک کے عوام کے لیے معاشی، سماجی اور انسانی مسائل کو بڑھا دے گی۔ پاکستان کی فیصلہ کن جواب دہی اپنی سلامتی کے تحفظ کا حق ہے مگر اسے امن کی طرف موڑنے کی ضرورت ہے۔ دونوں ممالک تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی طور پر جڑے ہوئے ہیں اور ان کے درمیان تعاون ہی خطے کی خوشحالی کی کنجی ہے۔ انسانی جانوں کی قدر اور مستقبل کی نسلوں کے لیے امن کو ترجیح دیتے ہوئے دونوں کو چاہیے کہ تشدد کے بجائے سفارتی راستے اپنائیں تاکہ یہ سلسلہ تھم سکے اور خطہ استحکام کی طرف لوٹ سکے۔
Comments
Post a Comment