یونیسکو کے ڈائریکٹر جنرل کی پاکستان کی پہلی سرکاری دورہ: تعلیم، ثقافت اور مستقبل کی شراکت داری کی طرف ایک اہم قدم-

یونیسکو کے نئے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر خالد ال عنانی کی پاکستان کی پہلی سرکاری دورہ (یکم اور دوم فروری ۲۰۲۶) کو غیر جانبدار طور پر دیکھا جائے تو یہ ایک ایسا موقع تھا جس نے پاکستان اور یونیسکو کے درمیان تعاون کو نئی جہت دینے کی بنیاد رکھی۔ وزیراعظم شہباز شریف اور متعلقہ وفاقی وزراء کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے نتیجے میں دونوں فریقوں نے اتفاق کیا کہ پاکستان اور یونیسکو کے درمیان ایک نیا اسٹریٹجک روڈ میپ تیار کیا جائے گا جو تعلیم، ثقافت، سائنس اور مواصلات جیسے شعبوں میں پاکستان کی ضروریات کے مطابق آگے بڑھنے والے اقدامات اور مؤثر اقدامات کی نشاندہی کرے گا۔ یہ دورہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ ڈائریکٹر جنرل نے اپنی ویژن "یونیسکو فار دی پیپل" اور "ایکسپرٹائز بیوند بارڈرز" کو عملی شکل دی، جس میں عالمی یکجہتی کے ذریعے مقامی چیلنجز کا حل تلاش کرنے پر زور دیا گیا۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے جہاں ۲۵ ملین بچے اسکول سے باہر ہیں اور ثقافتی ورثہ کو تحفظ کی ضرورت ہے، یہ تعاون نہ صرف عالمی ادارے کی حمایت کا مظہر ہے بلکہ داخلی اصلاحات اور بین الاقوامی بہترین طریقوں کو اپنانے کا ایک پلیٹ فارم بھی فراہم کر سکتا ہے۔ دورے کے دوران اسلام آباد ماڈل سکول میں قومی ایجوکیشن ایمرجنسی پلان پر بریفنگ اور طلبہ کے ساتھ AI، robotics اور چیس جیسے موضوعات پر بات چیت نے یہ واضح کیا کہ نوجوانوں کو مرکز میں رکھ کر ہی پائیدار ترقی ممکن ہے۔


ٹیکسیلا کے عالمی ورثہ مقام پر دورہ اور بھیڑ ماؤنڈ پر جاری آثار قدیمہ کی کھدائی کا مشاہدہ اس دورے کا ایک نمایاں پہلو تھا جہاں ڈائریکٹر جنرل نے نوجوان آثار قدیمہ کے ماہرین، خاص طور پر خواتین محققین انعم عزیز اور ابو بکر کی تعریف کی اور نوجوانوں کو سائٹ مینجمنٹ کمیٹیوں میں شامل کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا یہ بیان کہ "جب ہر شخص اپنے ورثے کا مالک بن جاتا ہے تو تحفظ ایک مشترکہ کمیونٹی ویلیو بن جاتا ہے" پاکستان جیسے ملک کے لیے بہت معنی خیز ہے جہاں تاریخی مقامات کو مقامی برادریوں کی ملکیت اور شرکت کے بغیر محض سرکاری ذمہ داری سمجھا جاتا ہے۔ ڈاکٹر زاہی حواس اور مقامی ماہر انمول ظہور کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو کی سہولت اور مستقبل میں اکیڈمک ایکسچینجز کی تجویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ یونیسکو کی پالیسیاں اب سرحدوں سے ماورا ہو کر عملی اشتراک پر مبنی ہیں۔ غیر جانبدار تجزیہ یہ ہے کہ یہ اقدامات پاکستان کی ثقافتی ورثہ کی حفاظت کو نہ صرف مضبوط کریں گے بلکہ سیاحت، تعلیم اور تحقیق کے شعبوں میں نئے مواقع بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ البتہ اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنے داخلی وسائل اور پالیسیوں کو بھی اس عالمی شراکت داری کے مطابق ترتیب دے تاکہ یہ تعاون محض رسمی نوعیت کا نہ رہے بلکہ حقیقی تبدیلی کا باعث بنے۔


مجموعی طور پر یہ دورہ پاکستان کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے کہ یونیسکو اب پاکستان کو ایک ممکنہ گلوبل ماڈل کے طور پر دیکھ رہا ہے جہاں تعلیم، ثقافت اور سائنس کے ذریعے امن، مکالمہ اور پائیدار ترقی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل کی یونیسکو اسلام آباد آفس ٹیم کے ساتھ ملاقات میں فیلڈ آفس کی بااختیار بنانے، انٹرسیکٹرل اپروچ اپنانے اور آفس اسپیس کے لیے حکومت سے درخواست نے عملی سطح پر تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ مارچ ۲۰۲۶ میں ۲۰۲۶ GEM رپورٹ کی لانچنگ اور اپریل میں آؤٹ آف سکول بچوں پر گلوبل ڈائیلاگ جیسے ایونٹس پاکستان کو عالمی سطح پر اپنے تجربات شیئر کرنے اور دوسرے ممالک سے سیکھنے کا موقع دیں گے۔ غیر جانبدار رائے میں یہ دورہ اگرچہ مختصر تھا مگر اس نے طویل مدتی شراکت داری کی بنیاد رکھی ہے۔ پاکستان کی کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ وہ اس موقع کو کس حد تک اپنی قومی ترجیحات جیسے لڑکیوں کی تعلیم، ڈیجیٹل خواندگی، ثقافتی تحفظ اور نوجوانوں کی شمولیت کے ساتھ جوڑتا ہے۔ یہ نہ صرف یونیسکو کے ساتھ بلکہ عالمی برادری کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی طرف ایک معنی خیز پیش رفت ہے جو مستقبل میں مزید مؤثر اور پائیدار نتائج لا سکتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

محمد عامر کی ایک بار پھر کاؤنٹی کرکٹ میں واپسی امیدیں اور خدشات

سوڈان میں اخوان المسلمون کی پابندی: ریاستی استحکام کے لیے ایک تاریخی فیصلہ

ٹرمپ کی کامیابی کا راز: خلیجی اتحادیوں کا تحفظ کیوں ضروری ہے؟