پاکستان کی معیشت، موسمیاتی دباؤ اور علاقائی تعاون: ایک بدلتے ہوئے منظرنامے کی جھلک
دوحہ فورم 2024 میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی گفتگو نے اس حقیقت کی طرف توجہ مبذول کرائی کہ پاکستان کی معاشی سمت کا تعین اب محض مالیاتی اشاریوں سے نہیں بلکہ موسمیاتی خطرات اور آبادی کے بڑھتے ہوئے دباؤ سے بھی جڑا ہوا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ موسمیاتی تبدیلی اور ڈیموگرافک پریشر ملک کے لیے ’’وجودی خطرات‘‘ ہیں، حالیہ برسوں میں درپیش قدرتی آفات کے پس منظر میں ایک اہم نکتہ ہے۔ 2022 کے تباہ کن سیلاب اور اس سال کی ہنگامی صورتحال نے واضح کر دیا ہے کہ موسمیاتی خطرات حکومتی منصوبہ بندی، مالیاتی استحکام اور ترقیاتی اہداف کو براہ راست متاثر کر رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں موسمیاتی فنانسنگ کا مطالبہ نہ صرف مناسب بلکہ ناگزیر دکھائی دیتا ہے۔
معاشی اعتبار سے پاکستان کے لیے یہ چیلنج دوہرا ہے: ایک طرف ماحولیاتی آفات ترقی کی رفتار کم کر رہی ہیں تو دوسری طرف آبادی کا تیز رفتار اضافہ وسائل پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔ وزیرِ خزانہ کے مطابق حالیہ سیلاب نے مجموعی ترقی کی شرح میں کم از کم 0.5 فیصد کمی کی، جو اس بات کا عکاس ہے کہ موسمیاتی خطرات کا معاشی اثر فوری اور واضح ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی تعاون، پائیدار انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری اور موسمیاتی فنانسنگ تک رسائی قومی معیشت کے لیے ضروری ہو چکی ہے۔ اگرچہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ مالیاتی بفر دوبارہ مضبوط ہوئے ہیں اور ترسیلات زر نے بیرونی دباؤ کم کیا ہے، مگر موسمیاتی خطرات اور آبادی کے مسائل وسط مدتی ترقیاتی منصوبوں میں بڑے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
دوحہ فورم کے دوران قطر اور پاکستان کے درمیان مضبوط معاشی روابط کی بات چیت سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ملک اپنی معاشی کمزوریوں کو علاقائی شراکت کاری کے ذریعے کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان آزاد تجارت کے معاہدے، توانائی کے شعبے میں تعاون اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں شراکت جیسے نکات اس سمت کا تعین کرتے ہیں کہ پاکستان اپنی سفارتی و اقتصادی ترجیحات کو وسعت دینے کا خواہاں ہے۔ تاہم یہ امر اہم رہے گا کہ آیا یہ علاقائی تعاون پاکستان کی موسمیاتی کمزوریوں، سرمایہ کاری کے خلا اور آبادیاتی دباؤ سے نمٹنے میں کس حد تک عملی مدد فراہم کرتا ہے۔ آنے والے برسوں میں ان پالیسی اقدامات کی افادیت ملک کے معاشی استحکام اور عالمی سطح پر اس کے کردار کا تعین کرے گی۔
Comments
Post a Comment