وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے اقدامات عوامی ریلیف، بحالی اور اصلاحات کی سمت ایک قدم

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں 171 نکاتی ایجنڈے کی منظوری دی گئی، جس میں بجلی کے شمسی ٹیرف میں دو روپے فی یونٹ کمی، سیلاب متاثرین کے لیے مالی امداد، اور تعلیم، صحت و ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں نئی اصلاحات شامل ہیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ 2025 کے تباہ کن سیلاب نے صوبے کے 27 اضلاع میں 4.67 ملین ایکڑ زرعی زمین متاثر کی، جس کے باعث 47 لاکھ سے زائد افراد مشکلات کا شکار ہوئے۔ مریم نواز نے کہا کہ یہ پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا قدرتی سانحہ تھا، تاہم حکومتی اداروں اور رضاکاروں کی فوری کارروائی سے جانی نقصان کم سے کم رہا۔


کابینہ نے متاثرہ خاندانوں کے لیے مالی امداد کے پیکج کی منظوری دی، جس کے تحت جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ کو 10 لاکھ روپے اور معذوری کی صورت میں 3 سے 5 لاکھ روپے تک کی ادائیگی کی جائے گی۔ سیلاب سے تباہ شدہ گھروں اور فصلوں کے نقصانات پر بھی معاوضے کا اعلان کیا گیا، جب کہ زرعی ٹیکس اور پانی کے واجبات سیلاب زدہ علاقوں کے لیے معاف کر دیے گئے۔ مریم نواز نے سول ڈیفنس کے رضاکاروں کے لیے 15 ہزار روپے اضافی ماہانہ تنخواہ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات انسانی ہمدردی کی بہترین مثال ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو قیادت کے مواقع دینے کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ "عوامی نمائندے دفتر میں نہیں، میدان میں ہونے چاہئیں۔"


اجلاس میں ماحولیاتی آلودگی سے نمٹنے، تعلیمی منصوبوں کی تکمیل، اور عوامی فلاحی اسکیموں پر خصوصی زور دیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے "مریم نواز راشن کارڈ" کے پائلٹ منصوبے، انٹرسٹ فری الیکٹرک ٹیکسی اسکیم، اور کھلاڑیوں کے لیے ای-بائیک پروگرام کی منظوری دی۔ حکومت نے نئے اساتذہ، ججوں، اور ماحولیاتی افسران کی بھرتیوں کی اجازت بھی دی، جب کہ بیوٹی سیلونز پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز مسترد کر دی گئی۔ ماہرین کے مطابق، ان فیصلوں سے صوبے میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری اور عوامی اعتماد میں اضافہ ممکن ہے، بشرطیکہ ان اقدامات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔

Comments

Popular posts from this blog

محمد عامر کی ایک بار پھر کاؤنٹی کرکٹ میں واپسی امیدیں اور خدشات

سوڈان میں اخوان المسلمون کی پابندی: ریاستی استحکام کے لیے ایک تاریخی فیصلہ

ٹرمپ کی کامیابی کا راز: خلیجی اتحادیوں کا تحفظ کیوں ضروری ہے؟