پاکستان کا نیا بحری وژن جبوتی، ممباسا اور افریقہ سے تجارتی روابط کی نئی راہیں.
پاکستان نے مشرقی افریقہ کے ساتھ براہِ راست بحری رابطے کے لیے جبوتی اور ممباسا کی بندرگاہوں کو جوڑنے کا جو منصوبہ پیش کیا ہے، وہ جنوبی ایشیا، خلیج اور افریقہ کے درمیان تجارتی توازن کو نئی سمت دے سکتا ہے۔ وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انور چوہدری اور روانڈا کی سفیر حرامینا فاتاؤ کے درمیان ملاقات میں اس منصوبے پر گفتگو ہوئی، جس میں دونوں ممالک نے علاقائی تعاون اور تجارتی روابط کے فروغ پر اتفاق کیا۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس بحری کوریڈور سے نہ صرف شپنگ لاگت اور وقت میں واضح کمی آئے گی بلکہ مقامی بندرگاہوں کی سرگرمیاں بھی بڑھیں گی، خاص طور پر گوادر کی حیثیت ایک ابھرتے ہوئے ایکسپورٹ حب کے طور پر مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔
یہ اقدام پاکستان کے جغرافیائی محلِ وقوع کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ایک عملی قدم معلوم ہوتا ہے۔ بحیرہ عرب پر واقع ہونے کے باعث پاکستان کے پاس خلیجی ممالک، چین، وسطی ایشیا اور اب افریقہ تک رسائی کے لیے قدرتی جغرافیائی برتری حاصل ہے۔ کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم پہلے ہی ملک کی زیادہ تر شپنگ سرگرمیوں کا مرکز ہیں، مگر نئی شپنگ لائنز کا قیام ان بندرگاہوں کو عالمی سطح پر زیادہ مؤثر بنا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، روانڈا کی جانب سے کاروبار سے کاروبار (B2B) فورمز کے قیام کی تجویز دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان براہِ راست تعلقات کو فروغ دے سکتی ہے، جو پائیدار تجارتی تعاون کے لیے نہایت اہم ہے۔
تاہم، اس وژن کی کامیابی کئی عوامل پر منحصر ہے۔ سب سے پہلے، پاکستان کو اپنے بندرگاہی ڈھانچے، شپنگ سروسز اور کسٹمز کے نظام میں بین الاقوامی معیار کی اصلاحات متعارف کرانا ہوں گی۔ دوسرا، اس منصوبے کے لیے سیاسی استحکام اور پالیسی تسلسل بنیادی اہمیت رکھتا ہے تاکہ سرمایہ کار اعتماد کے ساتھ سرمایہ کاری کر سکیں۔ اگر پاکستان اپنی موجودہ جغرافیائی برتری کو جدید ٹیکنالوجی، مضبوط پالیسیوں اور شراکت داریوں کے ساتھ جوڑنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو یہ نہ صرف اس کی بحری معیشت کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگا بلکہ افریقہ اور ایشیا کے درمیان تجارتی تعلقات کا ایک نیا دور بھی شروع کر سکتا ہے۔
Comments
Post a Comment