"ایک قوم، تین ریاستیں اسلام آباد میں خطے کے اتحاد کا نیا پیغام.


اسلام آباد میں ترکی، آذربائیجان اور پاکستان کے پارلیمانی اسپیکرز کی سہ فریقی کانفرنس نے خطے میں تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز کیا ہے۔ ترکی کے اسپیکر نعمان قرتلمش نے اپنے خطاب میں “ایک قوم، تین ریاستیں” کے تصور کو اجاگر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ تینوں ممالک تاریخی، ثقافتی اور تہذیبی رشتوں کے ساتھ امن، انصاف اور ترقی کے مشترکہ مقصد کے لیے متحد ہیں۔ یہ اجلاس اس امر کا عکاس تھا کہ تینوں ریاستیں عالمی سطح پر زیادہ منصفانہ نظام اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کے لیے آواز اٹھانا چاہتی ہیں۔


دفاعی اور پارلیمانی شعبوں میں تعاون کی بات کرتے ہوئے، رہنماؤں نے مشترکہ فوجی مشقوں، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور علاقائی سیکیورٹی کے لیے مضبوط اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔ اس اتحاد کی بنیاد محض جذباتی وابستگی پر نہیں بلکہ باہمی اعتماد، تجربے اور مفادات کے عملی امتزاج پر رکھی جا رہی ہے۔ ترکی اور پاکستان کی جانب سے آذربائیجان کی قرہ باغ کی آزادی کی حمایت کو اس باہمی اخوت کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو تینوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کرتی ہے۔


تاہم، ماہرین کے مطابق، اس اتحاد کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ آیا یہ تعاون بیانات سے آگے بڑھ کر پالیسی کی سطح پر استحکام حاصل کرتا ہے یا نہیں۔ علاقائی امن، تجارتی روابط اور مشترکہ ترقی کے اہداف کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے تینوں ممالک کو ادارہ جاتی سطح پر مشترکہ منصوبے، سرمایہ کاری اور عوامی تبادلوں کو فروغ دینا ہوگا۔ اگر یہ تعاون مستقل اور عملی بنیادوں پر قائم رہتا ہے تو "ایک قوم، تین ریاستیں" کا تصور خطے میں نئی سفارتی طاقت کا مرکز بن سکتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

محمد عامر کی ایک بار پھر کاؤنٹی کرکٹ میں واپسی امیدیں اور خدشات

سوڈان میں اخوان المسلمون کی پابندی: ریاستی استحکام کے لیے ایک تاریخی فیصلہ

ٹرمپ کی کامیابی کا راز: خلیجی اتحادیوں کا تحفظ کیوں ضروری ہے؟