پاکستان کی ریلوے ترقی: ایم ایل-1 اور ایم ایل-3 کی جدید کاری علاقائی تجارت کے لیے ناگزیر
اسلام آباد: وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے ریلوے نظام کی جدید کاری بالخصوص مین لائن-1 (ایم ایل-1) اور مین لائن-3 (ایم ایل-3) منصوبے ملک کی معاشی ترقی اور خطے میں تجارتی روابط کو فروغ دینے کے لیے نہایت اہم ہیں۔ ابوظہبی میں منعقدہ عالمی ریل ٹرانسپورٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جدید انفراسٹرکچر خوشحالی کی بنیاد ہے اور اس سے فریٹ کی گنجائش میں اضافہ، سفر کے اوقات میں کمی اور ریلوے کے معیار کو بین الاقوامی سطح سے ہم آہنگ کیا جا سکے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایم ایل-1، جو کراچی سے پشاور تک 1,872 کلومیٹر طویل ہے، پاکستان کی سب سے مصروف مسافر و مال بردار لائن ہے جبکہ ایم ایل-3 کوئٹہ کو کوٹری سے جوڑتی ہے اور معدنیات سمیت خطے کی تجارت میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ کیانی نے اس موقع پر پاکستان کے موٹروے نیٹ ورک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جیسے سڑکوں نے ترقی، روزگار اور علاقائی انضمام کو فروغ دیا، ویسے ہی ایم ایل-1 اور ایم ایل-3 ریلوے کے شعبے میں انقلابی تبدیلی کا سبب بنیں گے۔
کانفرنس کے موقع پر کیانی نے اتحاد ریل کے سی ای او شادي مالک سے بھی ملاقات کی، جس میں مال برداری، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور نیٹ ورک کی ترقی پر بات چیت ہوئی۔ انہوں نے اتحاد ریل اور حفیط ریل کے اسٹالز کا بھی دورہ کیا اور جدید ریلوے نظام سے متعلق خطے میں جاری اقدامات کا جائزہ لیا۔ بعد ازاں انہوں نے قصر البحر محل میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کی اور وزیراعظم شہباز شریف کا پیغام اور دورۂ پاکستان کی دعوت پہنچائی۔ دونوں رہنماؤں نے برادرانہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
Comments
Post a Comment