سُنداس فاؤنڈیشن کا دورہ: سیاستدانوں کی تعریف اور مستقبل کے عزائم
لاہور میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی چیئرپرسن سینیٹر بشریٰ انجم بٹ اور پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر علی حیدر گیلانی نے سُنداس فاؤنڈیشن کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے خون کی بیماریوں میں مبتلا بچوں سے ملاقات کی، تحائف تقسیم کیے اور ادارے میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔ فاؤنڈیشن کے بانی محمد یاسین خان اور ڈائریکٹر خالد عباس ڈار نے مہمانوں کا استقبال کیا جبکہ میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر عدنان گیلانی نے انہیں علاج اور جدید طبی سہولیات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔
دورے کے دوران علی حیدر گیلانی نے فاؤنڈیشن کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ تھلیسیمیا کی روک تھام کے لیے قانون سازی ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تجویز کردہ قانون میں شادی سے قبل مرد حضرات کے جینیاتی ٹیسٹ کو لازمی بنانے کی شق شامل ہے تاکہ اس مرض کی منتقلی کو کم کیا جا سکے۔ ان کے مطابق اگر ان اقدامات سے مریضوں کی زندگی میں ایک دن کا بھی اضافہ ہو تو یہ ایک بڑی کامیابی ہوگی۔ دوسری جانب سینیٹر بشریٰ انجم بٹ نے ادارے کی صفائی، معیار اور مریضوں کے علاج کو اطمینان بخش قرار دیا اور اپنے اعتماد کا اظہار کیا۔
سُنداس فاؤنڈیشن گزشتہ چار دہائیوں سے خون کی بیماریوں میں مبتلا بچوں کو مفت علاج اور خون فراہم کر رہی ہے۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر اس کے کردار کو سراہا جا رہا ہے۔ اگرچہ اس طرح کے دورے حوصلہ افزا ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ آیا سیاسی وعدے عملی شکل اختیار کر پائیں گے یا نہیں۔ فلاحی اداروں کی تعریف اپنی جگہ اہم ہے، مگر پائیدار نتائج کے لیے حکومت اور سیاسی جماعتوں کو عملی اقدامات، بجٹ کی فراہمی اور قانون سازی پر سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا تاکہ معاشرہ واقعی ایسے امراض سے محفوظ بنایا جا سکے۔
Comments
Post a Comment