NRE کا مقصد محفوظ ڈاکٹرز کی تیاری یا ہونہار طلبہ پر اضافی بوجھ؟
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) کا مؤقف ہے کہ نیشنل رجسٹریشن ایگزام (NRE) صرف ایک فلٹر نہیں بلکہ ایک ناگزیر مرحلہ ہے جس کا مقصد ایسے ڈاکٹروں کو سامنے لانا ہے جو علمی، عملی اور اخلاقی طور پر اس قابل ہوں کہ مریضوں کے لیے "محفوظ" ثابت ہوں۔ اس اقدام کا مقصد قابلِ ستائش ہے، کیونکہ طبی شعبے میں معمولی غلطی بھی انسانی جان کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ تاہم، نیا سوال یہ ہے کہ کیا یہ امتحان واقعی معیار کی ضمانت بن رہا ہے یا صرف ایک اضافی چیلنج؟
یہ سوال اس وقت اور اہم ہو جاتا ہے جب ہم 2025 کے حالیہ FBISE نتائج پر نظر ڈالتے ہیں، جہاں 196,000 سے زائد طلبہ نے امتحان میں شرکت کی اور کلاس 12 کا کامیابی تناسب 83.19 فیصد رہا۔ سائنس، پری انجینئرنگ اور جنرل گروپس میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے والے طلبہ، جیسے علینا طاہر، مزمل ساجد اور ضیعم رحاب، یہ ثابت کرتے ہیں کہ ہماری نوجوان نسل محنتی اور باصلاحیت ہے۔ ایسے میں جب طلبہ پہلے ہی سخت تعلیمی مقابلے سے گزر کر میڈیکل کالجز تک پہنچتے ہیں، تو یہ دلیل دی جا رہی ہے کہ NRE ایک دہرا امتحان بن جاتا ہے — جو نہ صرف دباؤ بڑھاتا ہے بلکہ بعض کے لیے مایوسی کا سبب بھی بنتا ہے۔
ان تمام نکات کو مدِنظر رکھتے ہوئے، ضروری ہے کہ NRE جیسے اقدامات کو شفاف، منصفانہ اور سہولت یافتہ بنایا جائے تاکہ یہ قابلیت کی جانچ کا مؤثر ذریعہ تو بنے، مگر خوابوں کا قاتل نہ ہو۔ پاکستان کے تعلیمی نظام میں بہتری کے لیے ایسے اقدامات اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، بشرطیکہ ان میں طلبہ کی مشکلات، تعلیمی پس منظر، اور ذہنی دباؤ جیسے پہلوؤں کا بھی ادراک کیا جائے۔ محفوظ ڈاکٹرز یقینی بنانے کے لیے راستہ ضرور سخت ہو، مگر تعمیری اور ہمدردانہ بھی۔
Comments
Post a Comment