فلسطین کی صورتحال پر او آئی سی اجلاس پاکستان کا مؤقف اور سفارتی کردار

پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا سعودی عرب میں ہونے والے او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے غیرمعمولی اجلاس میں شرکت کرنا ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اسرائیل کی جانب سے غزہ پر مکمل فوجی قبضے کے منصوبے نے عالمی سطح پر شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ پاکستان کا اس فورم پر فعال کردار ادا کرنا اس کے اصولی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے، جو ہمیشہ فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت، انسانی حقوق اور آزاد ریاست کے قیام کی حمایت پر مبنی رہا ہے۔
اس اجلاس میں اسحاق ڈار کا خطاب اور مؤقف نہ صرف اسرائیل کے جارحانہ اقدامات کی مذمت پر مرکوز ہے بلکہ انہوں نے فلسطینی عوام کے لیے فوری اور بلا تعطل انسانی امداد پر بھی زور دیا۔ 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر قائم ایک خودمختار فلسطینی ریاست کا مطالبہ، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، بین الاقوامی انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ یہ مؤقف ایک ایسی سفارت کاری کا مظہر ہے جو نعرہ بازی کے بجائے تعمیری اور ٹھوس تجاویز پر مبنی ہے۔
پاکستان کی کوشش ہے کہ او آئی سی جیسے بڑے پلیٹ فارم پر مسلم ممالک کو ایک مؤثر اور متحد لائحہ عمل اپنانے کی ترغیب دی جائے تاکہ فلسطینی عوام کی حالتِ زار کو عالمی سطح پر سنجیدگی سے اجاگر کیا جا سکے۔ اسحاق ڈار کی متوقع دو طرفہ ملاقاتیں نہ صرف فلسطین کے مسئلے پر ہم آہنگی پیدا کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہیں بلکہ مسلم دنیا کے اجتماعی مؤقف کو مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوں گی۔ اس وقت ضرورت صرف بیانات کی نہیں بلکہ عملی سفارتی حکمتِ عملی کی ہے — اور پاکستان اس سمت میں مثبت قدم بڑھاتا دکھائی دیتا ہے۔
Comments
Post a Comment