کراچی میں بارشوں سے تباہی، کمزور انفراسٹرکچر اور عوامی فلاح کی فوری ضرورت.
کراچی میں حالیہ بارش نے ایک بار پھر شہر کے بنیادی ڈھانچے کی کمزوری کو بے نقاب کر دیا ہے۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے نائب صدر محمد امان پراچہ کی تشویش اس تناظر میں نہایت اہمیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق صرف ایک دن کی بارش نے سڑکوں، نالوں اور شہری سہولیات کی خستہ حالی کو عیاں کر دیا، جس کے نتیجے میں شہریوں کی جان و مال خطرے میں پڑ گئی۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ترقیاتی منصوبوں کو نہ صرف ترجیح دے بلکہ ان کی بروقت تکمیل کو بھی یقینی بنائے۔
پراچہ نے اس امر کی جانب بھی توجہ دلائی کہ حالیہ مون سون کی شدت صرف کراچی تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک میں تباہی پھیلا چکی ہے۔ دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں لوگ امداد کے منتظر ہیں اور انفراسٹرکچر کی تباہی نے زندگی کے معمولات کو مفلوج کر دیا ہے۔ ایسے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا فرض ہے کہ فوری اور مؤثر اقدامات کے ذریعے متاثرین کو ریلیف فراہم کریں، خاص طور پر ان افراد کو جن کے گھر تباہ ہو چکے ہیں یا وہ کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
قابلِ تحسین پہلو یہ ہے کہ پاک فوج اور عام شہری، دونوں نے مشکل وقت میں امدادی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ پراچہ نے پاک فوج کی بروقت کارروائیوں اور متاثرین تک امداد پہنچانے کی کاوشوں کو سراہا، جس سے قوم میں ایک نیا جذبہ پیدا ہوا ہے۔ عوام کی جانب سے خود مدد کے تحت سامان جمع کر کے متاثرہ علاقوں تک پہنچانا اس بات کا ثبوت ہے کہ قوم میں ہمدردی، اتحاد اور قربانی کا جذبہ موجود ہے — بس اب حکومت کو اس جذبے کا مؤثر ساتھ دینا ہوگا۔
Comments
Post a Comment