میثاقِ استحکامِ پاکستان: قومی یکجہتی کا نیا موقع۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے 79 ویں یومِ آزادی کے موقع پر ملک کے تمام سیاسی جماعتوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو ’میثاقِ استحکامِ پاکستان‘ میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔ یہ پیش کش ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب سیاسی اختلافات اور ذاتی مفادات کی بجائے قومی مفاد اور اجتماعی سوچ کو اولین ترجیح دی جانے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ اس تقریب میں صدر آصف علی زرداری، آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر اعلیٰ عسکری و سول شخصیات بھی موجود تھیں، جس سے اس پیغام کی اہمیت اور وقعت میں اضافہ ہوا ہے۔


وزیرِ اعظم نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ یہ میثاق کسی معاشی چارٹر کی مانند نہیں بلکہ ایک ایسا قومی اتحاد ہے جو ملک کو درپیش اندرونی اور بیرونی چیلنجز کے خلاف مشترکہ دفاع فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مزید انتشار اور فرقہ واریت کی گنجائش نہیں دے گا، اور سب کو احتجاج، تنقید اور سیاسی عمل کا حق حاصل ہے لیکن ریاست کے خلاف بغاوت یا تشدد قبول نہیں کیا جائے گا۔ شہباز شریف نے پاک فوج کی حالیہ عسکری کارکردگی کو سراہا اور عالمی سطح پر پاکستان کی حمایت کرنے والے اتحادیوں کا شکریہ ادا کیا۔


یومِ آزادی کی تقریب میں ’مارکہِ حق‘ کے موضوع کو نمایاں کیا گیا، جو مئی میں بھارت کے ساتھ جاری تنازع کی یاد دہانی کراتا ہے۔ وزیرِ اعظم نے عالمی برادری سے کشمیریوں اور فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت کے لیے عملی کردار ادا کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ اس طرح کا میثاق اگر حقیقت کا روپ دھار گیا تو پاکستان کے لیے سیاسی استحکام اور قومی یکجہتی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، جو ملک کی ترقی اور سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

محمد عامر کی ایک بار پھر کاؤنٹی کرکٹ میں واپسی امیدیں اور خدشات

سوڈان میں اخوان المسلمون کی پابندی: ریاستی استحکام کے لیے ایک تاریخی فیصلہ

ٹرمپ کی کامیابی کا راز: خلیجی اتحادیوں کا تحفظ کیوں ضروری ہے؟