پاکستان کی عالمی منڈیوں میں واپسی: امریکی رعایتی محصولات اور مشرقِ وسطیٰ کی سرمایہ کاری پر توجہ۔

پاکستان ایک بار پھر عالمی مالیاتی منڈیوں میں متحرک ہو رہا ہے، جہاں وہ امریکہ سے رعایتی محصولات کے حصول اور مشرقِ وسطیٰ سے سرمایہ کاری کے لیے سرگرم ہے۔ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق، پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ سے ایک ارب ڈالر کی کمرشل فنانسنگ حاصل کر لی ہے، جو ملکی مالیاتی استحکام کی طرف ایک مثبت قدم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، حکومت پہلی بار پانڈا بانڈز کے اجرا کی تیاری کر رہی ہے اور یوروبانڈ جیسے بین الاقوامی مالیاتی ذرائع کو بھی استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔


موڈیز کے ساتھ ایک حالیہ اجلاس میں وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ بہتر ہوتی ہوئی معاشی اشاریے، جیسے کہ افراطِ زر میں کمی، شرحِ سود میں نرمی، مستحکم زرِ مبادلہ کی شرح، اور کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس، بین الاقوامی درجہ بندی کے اداروں کے لیے مثبت اشارے ہیں۔ ان کے مطابق، ان عوامل کی بنیاد پر پاکستان کی بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں رسائی مزید مستحکم ہو گی۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ امریکہ کے ساتھ ترجیحی محصولات تک رسائی کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں، جن میں امید افزا پیش رفت ہو رہی ہے۔


پاکستان کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ حالیہ اصلاحات، جن میں بجٹ میں کفایت شعاری، برآمدی پالیسیوں میں بہتری اور ٹیکس نظام کی ڈیجیٹلائزیشن شامل ہیں، ملکی معیشت کو طویل المدتی استحکام کی طرف لے جا رہی ہیں۔ وزیرِ خزانہ نے آئندہ چند سالوں میں ٹیکس-جی ڈی پی تناسب 13 سے 13.5 فیصد تک لانے کا ہدف بھی دیا ہے۔ اگرچہ بیرونی مالیاتی دباؤ برقرار ہے، لیکن حکومت پرامید ہے کہ ریٹنگ میں بہتری اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی سے مستقبل میں قرض لینے کی لاگت میں کمی آئے گی اور معیشت ایک پائیدار راہ پر گامزن ہو گی۔

Comments

Popular posts from this blog

محمد عامر کی ایک بار پھر کاؤنٹی کرکٹ میں واپسی امیدیں اور خدشات

سوڈان میں اخوان المسلمون کی پابندی: ریاستی استحکام کے لیے ایک تاریخی فیصلہ

ٹرمپ کی کامیابی کا راز: خلیجی اتحادیوں کا تحفظ کیوں ضروری ہے؟