اسلام آباد آئی ٹی پارک کی تیز رفتار تکمیل کی ہدایت، پاکستان کا 30 ارب ڈالر برآمدات کا ہدف
اسلام آباد: وزیرِ اعظم شہباز شریف نے وفاقی دارالحکومت میں قائم کیے جانے والے جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی پارک کی جلد تکمیل کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ڈیجیٹل ترقی ناگزیر ہے۔ 720,000 مربع فٹ پر مشتمل یہ آئی ٹی پارک دفاتر، تحقیق و ترقی کی لیبارٹریز، انکیوبیشن سینٹر، بزنس سپورٹ سینٹر، ٹیئر III ڈیٹا سینٹر اور ایک آڈیٹوریم پر مشتمل ہوگا۔ یہ منصوبہ ملک کی آئی ٹی برآمدات کو بڑھانے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
حکام کے مطابق یہ آئی ٹی پارک دراصل 14 اگست کو یومِ آزادی کے موقع پر افتتاح کے لیے تیار ہونا تھا، تاہم تعمیراتی کام کی سست رفتاری پر وزیرِ اعظم نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فوری اقدامات کی ہدایت کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ "عالمی معیار کی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور تمام ذمہ داران اپنی کاوشیں دوگنا کریں تاکہ منصوبہ جلد مکمل ہو سکے۔" یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب پاکستان اپنی آئی ٹی برآمدات کو موجودہ 3.8 ارب ڈالر سے بڑھا کر 30 ارب ڈالر تک لے جانے کی حکمتِ عملی ترتیب دے رہا ہے۔
پاکستان کے آئی ٹی شعبے کو مستقبل کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جا رہا ہے، جس کے تحت حکومت نئی منڈیاں تلاش کر رہی ہے، خصوصاً خلیجی ممالک میں۔ اس پارک کی تکمیل سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوگا اور مقامی اسٹارٹ اپس کو ترقی کا سازگار ماحول میسر آئے گا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسا مکمل ڈیجیٹل ایکوسسٹم پاکستان کو عالمی آئی ٹی مارکیٹ میں مؤثر طریقے سے جگہ دلانے میں مدد دے سکتا ہے۔
Comments
Post a Comment