اسلام آباد دفاعی کانفرنس اور بدلتی ہوئی علاقائی سیکیورٹی حکمت عملیاں۔
اسلام آباد میں 26 جولائی 2025 کو منعقدہ علاقائی دفاعی سربراہی کانفرنس نے جنوبی اور وسطی ایشیا میں سیکیورٹی تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز کیا۔ اس کانفرنس میں امریکہ، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان کے اعلیٰ فوجی حکام نے شرکت کی، جس سے یہ واضح ہوا کہ پاکستان اور وسطی ایشیائی ریاستیں اب سیکیورٹی تعاون میں تنوع کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ کانفرنس کا مرکزی نکتہ دہشتگردی کے خلاف تعاون، مشترکہ تربیت، اور دفاعی سفارت کاری کو فروغ دینا تھا، جو خطے کو درپیش چیلنجز کے تناظر میں ایک بروقت اقدام قرار دیا جا سکتا ہے۔
پاکستان کی میزبانی اس کے بدلتے ہوئے سیکیورٹی وژن کی عکاسی کرتی ہے۔ چین کے ساتھ گہرے اقتصادی تعلقات کے باوجود، پاکستان علاقائی قیادت کے ذریعے اپنی تزویراتی اہمیت کو دوبارہ متعین کرنا چاہتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب اندرونی سیاسی عدم استحکام اور اقتصادی مشکلات اس کی پالیسیوں پر اثر ڈال رہے ہیں۔ وسطی ایشیائی ممالک، جو طویل عرصے سے روسی سیکیورٹی ماڈلز پر انحصار کرتے رہے ہیں، اب اپنی دفاعی پالیسی کو زیادہ متوازن بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، اور امریکی تعاون کی طرف جھکاؤ اسی پالیسی کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔
امریکہ کی شرکت اگرچہ محدود تھی، مگر اس کی علامتی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ واشنگٹن افغانستان سے انخلا کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنے اور چین و روس کے اثرات کو محدود کرنے کے لیے اب بھی سیکیورٹی شعبے میں متحرک ہے۔ ایسے میں پاکستان اور وسطی ایشیا کی نئی دفاعی ترجیحات نہ صرف جغرافیائی سیاست میں تبدیلی کی علامت ہیں، بلکہ ان کی اندرونی و بیرونی ترجیحات کا نیا عکس بھی پیش کرتی ہیں۔ آنے والے وقت میں یہی تعاون ان ریاستوں کی سلامتی اور خودمختاری کی بنیاد بن سکتا ہے، بشرطیکہ یہ حکمت عملی مقامی استحکام کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔
Comments
Post a Comment