غزہ میں بھوک کا بحران شدید، پاکستان کی جانب سے دو امدادی طیارے روانہ کرنے کا فیصلہ
پاکستان نے فلسطینی عوام کے لیے انسانی ہمدردی کے تحت دو امدادی کارگو طیارے روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے، جو اردن اور مصر کے راستے غزہ پہنچیں گے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی تنظیمیں خبردار کر چکی ہیں کہ اسرائیلی محاصرہ غزہ کو قحط اور بدترین انسانی بحران کی طرف دھکیل رہا ہے۔ امدادی اداروں کے مطابق، ہزاروں خواتین اور بچے غذائی قلت اور بھوک کا شکار ہو چکے ہیں اور منظم امداد کی عدم موجودگی صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔
وزیراعظم پاکستان کی ہدایت پر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) نے دو سو ٹن خوراک اور ضروری اشیاء پر مشتمل امدادی سامان کے لیے فوری طور پر دو چارٹرڈ طیارے تیار کرنے کی ذمہ داری سنبھالی ہے۔ ان طیاروں کو آئندہ دو روز میں روانہ کیا جائے گا، اور پاکستانی سفراء اردن و مصر میں ان کی وصولی و ترسیل کی نگرانی کریں گے۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور این ڈی ایم اے کی ٹیم امدادی پروازوں کو اسلام آباد سے رخصت کریں گے، جس سے پاکستان کی سنجیدگی اور عملی یکجہتی کا اظہار ہوتا ہے۔
اس اقدام کو عالمی سطح پر ایک مثبت مثال کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ جب غزہ میں شہریوں کو غذائی امداد کے لیے نہ صرف طویل فاصلہ طے کرنا پڑ رہا ہے بلکہ اکثر انہیں قطاروں میں گولیوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، تو ایسے میں فوری اور منظم امداد ناگزیر ہے۔ پاکستان کا یہ فیصلہ صرف ایک سفارتی پیغام نہیں بلکہ ایک انسانی ضمیر کی پکار ہے جو مظلوموں کے ساتھ عملی کھڑا ہونا چاہتا ہے۔
Comments
Post a Comment