سرمایہ کاری کا انخلا صنعتی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کی ضرورت-

پاکستان میں حالیہ برسوں میں صنعتی شعبے کو درپیش چیلنجز اور سرمایہ کاری کے ماحول میں عدم توازن نے مقامی صنعتکاروں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنا سرمایہ محفوظ اور سازگار ماحول کی تلاش میں بیرون ملک منتقل کریں۔ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین کامران ارشد کے مطابق، سرمایہ کا تیزی سے انخلا دراصل ملکی پالیسیوں کی غیر مؤثر حکمت عملی کا عکس ہے۔ خاص طور پر متحدہ عرب امارات جیسے ممالک میں پاکستانی سرمایہ کاروں کی بڑھتی دلچسپی ایک بڑے معاشی اور پالیسی بحران کی نشاندہی کرتی ہے۔


ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم (EFS) جیسے اقدامات، جو برآمدات کو فروغ دینے کے لیے متعارف کروائے گئے، درحقیقت مقامی صنعت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ درآمد شدہ خام مال کو دی گئی ٹیکس چھوٹ اور مقامی پیداواری اشیاء پر بھاری ٹیکسز نے پاکستانی صنعتکاروں کی مسابقتی صلاحیت کو کمزور کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی صنعت، ٹیکسٹائل، شدید دباؤ کا شکار ہو چکی ہے، جہاں درجنوں اسپننگ ملز اور جننگ فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں۔


اگر حکومت واقعی برآمدات میں اضافہ اور معیشت کو مستحکم بنانا چاہتی ہے تو اسے فوری طور پر سرمایہ کاری کے لیے مساوی اور شفاف پالیسی ماحول فراہم کرنا ہوگا۔ صنعتی پالیسیوں میں بہتری، مقامی پیداوار کی حوصلہ افزائی، اور سرمایہ کی حفاظت کے مؤثر اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ بصورت دیگر، سرمایہ کاری کا یہ انخلا نہ صرف برآمدی اہداف کو متاثر کرے گا بلکہ ملکی معاشی خودمختاری پر بھی سوالیہ نشان چھوڑ جائے گا۔

Comments

Popular posts from this blog

محمد عامر کی ایک بار پھر کاؤنٹی کرکٹ میں واپسی امیدیں اور خدشات

سوڈان میں اخوان المسلمون کی پابندی: ریاستی استحکام کے لیے ایک تاریخی فیصلہ

ٹرمپ کی کامیابی کا راز: خلیجی اتحادیوں کا تحفظ کیوں ضروری ہے؟