خطے میں بڑھتی کشیدگی اور عراق کی سفارتی حکمت عملی-
ایران کی جانب سے قطر میں واقع امریکی ایئر بیس "العدید" پر غیر معمولی میزائل حملے نے مشرق وسطیٰ میں ایک نیا سفارتی و عسکری بحران پیدا کر دیا ہے۔ اس حملے کو عالمی مبصرین نے ایک خطرناک قدم قرار دیا ہے، جو نہ صرف قطر بلکہ پورے خلیج کے امن کو متزلزل کر سکتا ہے۔ ایسے وقت میں جب عالمی قوتیں پہلے ہی شدید تناؤ کا شکار ہیں، عراق کے وزیر اعظم محمد شیاع السودانی کی فوری سفارتی مداخلت ایک اہم قدم کے طور پر سامنے آئی ہے۔
السودانی نے قطر اور متحدہ عرب امارات کے سربراہان سے ٹیلیفونک گفتگو کے ذریعے نہ صرف یکجہتی کا اظہار کیا بلکہ خلیج کی خودمختاری اور سلامتی کے لیے اپنے ملک کی مکمل حمایت کا اعادہ بھی کیا۔ ان کا پیغام واضح تھا: خطے میں مزید عسکری اقدامات سے اجتناب برتا جائے تاکہ صورت حال قابو سے باہر نہ نکلے۔ ان کا زور اس بات پر تھا کہ کسی بھی نئی جارحیت کا نتیجہ صرف مقامی نہیں بلکہ عالمی امن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
عراق خود کئی دہائیوں تک تنازعات کا شکار رہا ہے، اور اب جب وہ اندرونی استحکام کی جانب بڑھ رہا ہے، اس کی یہ خواہش فطری ہے کہ خطے میں مزید جنگی ماحول نہ پیدا ہو۔ السودانی نے علاقائی قائدین پر زور دیا کہ وہ سفارتی سطح پر قریبی ہم آہنگی پیدا کریں تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ ان کی یہ پالیسی حقیقت پسندانہ اور محتاط رویے کی غماز ہے، جس کی موجودہ حالات میں اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
Comments
Post a Comment