مسلم ممالک کا اتحاد — وقت کی سب سے بڑی ضرورت-

دفاعی وزیر خواجہ آصف نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے جس انداز میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف مسلم اُمہ کو متحد ہونے کا پیغام دیا، وہ حالات کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ ایران پر اسرائیل کے حالیہ حملے، جس میں اعلیٰ فوجی قیادت شہید ہوئی، محض ایک ملک پر حملہ نہیں بلکہ پورے خطے کے استحکام پر ضرب ہے۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اسرائیل تنہا نہیں بلکہ اسے عالمی پشت پناہی حاصل ہے، اور پاکستان جیسے ممالک پر لازم ہے کہ وہ اپنے برادر اسلامی ممالک کے ساتھ کھڑے ہوں۔


انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل صرف فلسطین نہیں بلکہ ایران اور یمن جیسے ممالک کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔ ایسے میں مسلم ممالک کی خاموشی اور تقسیم دشمن کی حوصلہ افزائی کا باعث بن رہی ہے۔ خواجہ آصف نے اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے فوری اجلاس کی تجویز دیتے ہوئے ایک مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مغربی ممالک میں بھی اسرائیل کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں تو مسلم دنیا کو بھی اپنے ضمیر کو جگانا ہو گا۔


پاکستان کے اصولی مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر دفاع نے اس بات کی تائید کی کہ پاکستان نے کبھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی اس سے کوئی سفارتی تعلقات قائم کیے ہیں۔ موجودہ معاشی مشکلات کے باوجود، انہوں نے اسٹاک مارکیٹ کی بہتری کو مثبت علامت قرار دیا، اور اس امید کا اظہار کیا کہ قومی یکجہتی اور خارجی اصولوں پر استقامت ہی پاکستان کو مضبوط بنائے گی۔ آج جب مسلم دنیا مسلسل جارحیت کا شکار ہے، اتحاد اور عملی اقدامات ہی مستقبل کی سمت متعین کر سکتے ہیں۔



Comments

Popular posts from this blog

محمد عامر کی ایک بار پھر کاؤنٹی کرکٹ میں واپسی امیدیں اور خدشات

سوڈان میں اخوان المسلمون کی پابندی: ریاستی استحکام کے لیے ایک تاریخی فیصلہ

ٹرمپ کی کامیابی کا راز: خلیجی اتحادیوں کا تحفظ کیوں ضروری ہے؟