بیجنگ / اسلام آباد: پاکستان کی جانب سے چین کے جدید ترین جنگی طیارے جے-10 سی کے کامیاب استعمال کے بعد چینی سرکاری ٹی وی سی سی ٹی وی نے ایک دستاویزی فلم نشر کی ہے جس میں اس فائٹر جیٹ کی تیاری، خصوصیات اور حالیہ جنگی کامیابیوں کو اُجاگر کیا گیا ہے۔
دستاویزی فلم میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ پاک-بھارت کشیدگی کے دوران، پاکستان نے جے-10 سی ای طیاروں کی مدد سے بھارتی جنگی طیارے مار گرائے۔
بھارتی رافیل طیارے تباہ
7 مئی کو آزاد کشمیر کی فضائی حدود میں ہونے والے ایک ڈاگ فائٹ میں پاکستان ایئر فورس نے تین بھارتی رافیل طیاروں سمیت دیگر طیارے تباہ کیے۔ اس جھڑپ میں پاکستانی فضائیہ نے جے-10 سی ای کا کامیاب استعمال کیا۔ چین کی سرکاری فوجی رپورٹ کے مطابق، یہ اس طیارے کی پہلی عملی جنگی کامیابی ہے۔
پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی قومی اسمبلی میں اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ تین رافیل طیارے اور دیگر بھارتی جنگی طیارے گرائے گئے۔ ایک فرانسیسی عہدیدار نے رافیل کے نقصان کی تصدیق کی تاہم بھارت نے اس پر کوئی سرکاری تبصرہ نہیں کیا۔
جے-10 سی کی تاریخ اور تکنیکی خصوصیات
دستاویزی فلم کے مطابق، جے-10 کی تیاری کا آغاز 1980 کی دہائی میں ہوا جب چین کو احساس ہوا کہ اس کے جنگی طیارے امریکی اور سوویت ٹیکنالوجی سے پیچھے ہیں۔ اس کا ڈیزائن 1982 میں سونگ وین کانگ نے تیار کیا، اور پہلا ماڈل 1997 میں مکمل کیا گیا۔
جے-10 سی ای ایک 4.5 جنریشن کا جدید سنگل انجن، ملٹی رول فائٹر جیٹ ہے جو جدید AESA ریڈار، کم ریڈار کراس سیکشن، جدید اویونکس اور PL-15 میزائلوں سے لیس ہے۔
عالمی سطح پر پذیرائی
یہ طیارہ اس وقت ملائیشیا کے لانگ کاوی انٹرنیشنل میری ٹائم اینڈ ایرو اسپیس ایگزیبیشن میں بھی نمائش کے لیے پیش کیا گیا ہے جہاں اس کی ٹیکنالوجی اور صلاحیتوں کو بین الاقوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔
چینی تجزیہ کار ژانگ شو فینگ کے مطابق، جے-10 کی تیاری نے چین کو ایروڈائنامک ڈیزائن، فلائٹ کنٹرول سسٹمز اور جدید ٹربوفین انجن ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنے میں مدد دی ہے۔
چین: پاکستان کا سب سے بڑا دفاعی شراکت دار
چین اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا دفاعی ہتھیار فراہم کرنے والا ملک ہے، جو 2020 سے 2024 کے دوران پاکستان کے 81 فیصد دفاعی ہتھیار فراہم کر چکا ہے۔ پاکستان نہ صرف جے-10 سی بلکہ PL-15 میزائل اور JF-17 تھنڈر بھی چین سے خریدتا ہے۔
یہ دستاویزی فلم پاک-چین دفاعی تعاون کی گہرائی اور جے-10 سی ای کی بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت کی عکاسی کرتی ہے۔
Comments
Post a Comment