امریکی صدر پاکستان آرہے ہیں










مہنگائی کی چکی میں پسنے والے لوگ حیرت کی آخری حد تک پہنچ چکے ہیں۔ اب وہ ایک بھی لمحہ حیرانی کا سامنا نہیں کر پائیں گے اور ذہنی طور پر مفلوج ہو جائیں گے۔ وہ دنگ ہیں، پریشان ہیں کہ اچانک یہ سب کیسے ہوگیا؟ پہلے وہ یہ سمجھتے تھے کہ حکومت انہیں کشکول دے گی اور کہے گی، "اب تم مہنگائی کے طوفان میں ڈوبے لوگوں، آزاد ہو! جاؤ، دنیا بھر سے بھیک مانگو۔ اپنی زندگی گزارو، بھیک مانگنے پر کوئی روک ٹوک نہیں۔ دشمنوں سے، دوستوں سے، چھوٹے بڑے سب سے بھیک لو اور زندگی کے ہر لمحے کا لطف اٹھاؤ۔" لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ پھر کیا ہوا؟

مہنگائی کے ستائے لوگوں کو ایک اور بڑا دھچکا لگا۔ اخباروں میں سرکاری اشتہارات کی بھرمار دیکھ کر ہم سب ہیران ہو گئے۔ ان اشتہارات میں اربوں روپے کی مہمات چل رہی تھیں۔ ہم سوچنے لگے، "حکومت کے پاس اتنی دولت کہاں سے آ گئی؟ کیا انہوں نے بلوچستان کی سونے کی کانوں سے سونا بیچنا شروع کر دیا؟" کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ شاید حکومت کی لاٹری نکل آئی ہو۔ کچھ نے کہا، "شاید دنیا کے مسلم ممالک نے زکوة اور خیرات کی رقم حکومت کو بھیج دی ہو۔"

ہمیں کچھ بھی واضح نہیں ہو رہا تھا۔ ہم حیران تھے کہ چند مہینوں میں حکومت نے ملک کی تقدیر کیسے بدل ڈالی۔ پھر میں نے فیصلہ کیا کہ میں خود باہر جا کر ان تبدیلیوں کو دیکھوں گا۔ باہر نکلا تو دیکھا کہ میں اکیلا نہیں تھا، پورا شہر ان حیرت انگیز تبدیلیوں کا گواہ بننے کے لیے نکل پڑا تھا۔ یہ ایک ایسا منظر تھا جس کا دنیا میں کوئی دوسرا نمونہ نہیں ملتا، کہ چند ماہ میں حکومت نے ملک کی تقدیر کا رخ موڑ دیا ہو۔

کچھ ماہ پہلے پیدا ہونے والا بچہ، اب وزیر خارجہ بننے کے بعد وزیر اعظم بننے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ کسی معجزے سے کم نہیں۔ ہماری تاریخ ایسے خوابناک کرشموں سے بھری ہوئی ہے۔ یاد کیجئے، ہم نے اپنی بچی کو کچھ عرصہ پہلے امن کے نوبل انعام سے نوازا تھا، اور وہ دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچا آئی تھی۔ ہمیں اور آپ کو بھی حیران ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ ہمارے یہاں تو ایسا ہوتا ہے۔ یہاں تو بچے پیدا ہونے سے پہلے ہی قومی اسمبلی کی سیٹ پر نامزد کر دیے جاتے ہیں، اور ان سیٹوں پر کوئی دوسرا نہیں بیٹھ سکتا۔

اب میں جب مارکیٹوں میں گیا، تو حیرانی کی انتہاء ہو گئی۔ پیاز، آلو، اور سبزیاں اتنی سستی تھیں کہ یقین کرنا مشکل تھا۔ مرغی، بکرے کا گوشت، اور آٹا بھی انتہائی سستے داموں میں مل رہا تھا۔ ہم ایک زرعی ملک ہیں، لیکن جو قیمتیں میں نے دیکھی، وہ واقعی نرالی تھیں۔ قیمتیں واپس انیس سو پچاس کی دہائی میں جا پہنچی تھیں۔

ابھی تک، ہمارے یہاں سب کچھ بدل چکا ہے۔ ہماری حکومت نے اتنے کمالات دکھا دیے ہیں کہ پورا دنیا دنگ ہے۔ ہم نے چیمپئنز ٹرافی جیتی، اور دہشت گردوں کے خلاف ایسی کارروائیاں کیں کہ دنیا کے بڑے طاقتور ممالک بھی حیران ہیں۔ امن و امان کی ایسی صورتحال بنائی گئی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی پاکستان آنے کے لیے بے چین ہیں۔

کمال کی ہے ہماری حکومت، اور ہمیں یقین ہو چکا ہے کہ یہ واقعی کچھ نیا ہے جو ہم نے دیکھنا شروع کیا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

محمد عامر کی ایک بار پھر کاؤنٹی کرکٹ میں واپسی امیدیں اور خدشات

سوڈان میں اخوان المسلمون کی پابندی: ریاستی استحکام کے لیے ایک تاریخی فیصلہ

ٹرمپ کی کامیابی کا راز: خلیجی اتحادیوں کا تحفظ کیوں ضروری ہے؟