پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تجارتی انقلاب

 









 سنگل ونڈو کے درمیان ایک نیا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس شراکت داری کے نتیجے میں، اب پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان درآمدات، برآمدات اور ٹرانزٹ سے متعلق تمام ڈیٹا ایک متحدہ ڈیجیٹل پورٹل پر جمع کیا جا سکے گا۔

جدید ڈیجیٹل سہولیات

یہ معاہدہ ماقتا ٹیکنالوجیز گروپ – جو AD پورٹس گروپ کی ڈیجیٹل بازو ہے – اور پاکستان سنگل ونڈو کے درمیان ہوا ہے۔ پاکستان سنگل ونڈو ایک حکومتی ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جو تجارتی عمل کو آسان اور مؤثر بناتا ہے۔

اس شراکت داری سے جدید سروسز متعارف کروائی جائیں گی، جن میں ڈیجیٹل کسٹمز کلیئرنس، اسمارٹ ویئرہاؤسنگ، رسک مینجمنٹ سسٹم، ای کامرس، کارگو/پورٹ کمیونٹی سسٹم، ٹریڈ فنانس، اور تجارتی تجزیات شامل ہیں۔ ان سہولیات کی بدولت کاروباری برادری کو درپیش کئی مسائل حل ہوں گے اور تجارتی عمل مزید تیز ہو جائے گا۔

تجارتی مواقع کی توسیع

AD پورٹس گروپ کی ڈیجیٹل کلسٹر کی سی ای او ڈاکٹر نورہ الظہری کے مطابق، "ہم اپنی مشترکہ صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر پاکستان اور عالمی منڈیوں میں نئے تجارتی مواقع پیدا کریں گے اور تجارتی سہولتوں میں اضافہ کریں گے۔"

یہ معاہدہ نہ صرف پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا بلکہ اس سے پورے خطے میں اقتصادی استحکام اور ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔


 AD پورٹس گروپ کے معاہدے سے پاکستان کی معیشت پر اثرات

پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی مرکز کراچی پورٹ میں AD پورٹس گروپ کی بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری سے ملک کی معیشت میں نمایاں ترقی متوقع ہے۔ اس ترقیاتی منصوبے کے تحت، AD پورٹس گروپ نے کراچی کی ایسٹ وارف پر پانچ کنٹینر ٹرمینل برتھز کا 50 سالہ معاہدہ حاصل کر لیا ہے۔

کراچی پورٹ – وسطی ایشیا کے لئے گیٹ وے

AD پورٹس گروپ نے پچھلے سال سات جنرل اور بلک کارگو برتھز کے لیے بھی 25 سالہ معاہدہ کیا تھا۔ یہ معاہدے کراچی پورٹ کو ایک جدید اور موثر بندرگاہ میں تبدیل کرنے کے مشن کا حصہ ہیں۔

AD پورٹس گروپ کے مطابق، "پاکستان وسطی ایشیا کے لئے ایک اہم بحری راستہ فراہم کرتا ہے اور 'مڈل کوریڈور' کو جدید اور کم لاگت والا سمندری تجارتی راستہ بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔"

اقتصادی فوائد

کراچی پورٹ کی ترقی سے نہ صرف پاکستانی معیشت کو فروغ ملے گا بلکہ یہ علاقائی تجارت کے لیے بھی نہایت اہم ثابت ہوگا۔ اس منصوبے کے ذریعے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ پاکستان کی تجارتی صلاحیت میں نمایاں اضافہ بھی ہوگا۔

یہ ترقیاتی معاہدہ نہ صرف بندرگاہ کی کارکردگی کو بہتر بنائے گا بلکہ پاکستان کو بین الاقوامی تجارتی مرکز بنانے میں بھی مدد دے گا۔



Comments

Popular posts from this blog

محمد عامر کی ایک بار پھر کاؤنٹی کرکٹ میں واپسی امیدیں اور خدشات

سوڈان میں اخوان المسلمون کی پابندی: ریاستی استحکام کے لیے ایک تاریخی فیصلہ

ٹرمپ کی کامیابی کا راز: خلیجی اتحادیوں کا تحفظ کیوں ضروری ہے؟