برطانوی سفیر کی پاکستان میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی کی تعریف
برطانوی سفیر کی پاکستان میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی کی تعریف
انگلینڈ اور پاکستان کی ابتدائی شکست پر مایوسی کا اظہار
کراچی: برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر لینس ڈوم نے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 میں پاکستان اور انگلینڈ کی ابتدائی شکست پر مایوسی کا اظہار کیا، لیکن ساتھ ہی پاکستان کی شاندار میزبانی کو سراہا۔
پاکستان کی میزبانی کی تعریف
جیو نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں، ڈوم نے نہ صرف ٹورنامنٹ پر اپنے خیالات کا اظہار کیا بلکہ کرکٹ کے متحد کرنے والے پہلو اور کراچی میں اپنے قیام کے دوران کیے جانے والے منصوبوں پر بھی بات کی۔
انہوں نے کہا کہ 29 سال بعد پاکستان میں ہونے والے کسی بڑے آئی سی سی ایونٹ نے عالمی سطح پر ٹیموں اور شائقین کو ملک میں اکٹھا کیا ہے۔ تاہم، انگلینڈ اور پاکستان کی ابتدائی شکستیں افسوسناک رہیں۔
پاکستان-انگلینڈ فائنل کی خواہش
ڈوم نے کہا کہ وہ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان فائنل دیکھنے کے خواہشمند تھے، لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا، "یہ واقعی افسوسناک ہے، میں امید کر رہا تھا کہ پاکستان اور انگلینڈ فائنل میں پہنچیں گے، لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔"
انہوں نے انگلینڈ اور پاکستان کی کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب اعتماد کی بات ہے اور دونوں ٹیمیں جلد ہی دوبارہ کامیابی حاصل کریں گی۔
پاکستان میں کرکٹ کا شاندار ماحول
ڈوم نے کراچی میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے میچ کا تجربہ بھی شیئر کیا۔ انہوں نے کہا، "میں پاکستان-نیوزی لینڈ میچ دیکھنے گیا تھا اور یہ ایک شاندار ایونٹ تھا۔ اسٹیڈیم کا ماحول زبردست تھا۔ بدقسمتی سے، نتیجہ ہماری امیدوں کے مطابق نہیں آیا۔"
انہوں نے پاکستان کی ٹورنامنٹ کے بہترین انتظامات پر تعریف کرتے ہوئے کہا، "اگرچہ پاکستان اور انگلینڈ کی ٹیمیں زیادہ اچھا نہیں کھیل سکیں، لیکن میں پاکستان کو ایک شاندار ٹورنامنٹ کے انعقاد پر مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔"
کرکٹ کی طاقت اور پاکستان سے محبت
برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر نے کرکٹ کو ثقافتی پل قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان کرکٹ کا ایک خاص تعلق ہے، جو لوگوں کو جوڑنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
انہوں نے خاص طور پر انگلینڈ اور پاکستان کے شائقین کے درمیان دوستانہ تعلقات کا ذکر کیا۔ "یہ سب سے دلچسپ چیز ہے جو میں نے اس ٹورنامنٹ میں دیکھی۔ پاکستانی اور انگلش شائقین ایک ساتھ خوشگوار وقت گزار رہے ہیں،" انہوں نے مزید کہا۔
وسیم اکرم کی مہارت کا اعتراف
ڈوم نے اپنے بچپن کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پہلی کرکٹ یاد وسیم اکرم کی تباہ کن باؤلنگ ہے۔ "جب میں بچہ تھا، میں نے ٹی وی پر کرکٹ دیکھی اور میری پہلی یاد وسیم اکرم کی ہے، جو انگلینڈ کی ٹیم کو تباہ کر رہے تھے۔ وہ شاندار تھے!"
پاکستانی ٹیم کے لیے امید
پاکستانی ٹیم کی حالیہ کارکردگی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "ہمارے ساتھ بھی ایسا ہو چکا ہے۔ پاکستان کی ٹیم نے کچھ مایوس کن میچز کھیلے ہیں، لیکن یہ ایک شاندار ٹیم ہے جس میں بہترین کھلاڑی موجود ہیں۔ ایک جیت، مزید جیت کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔"
تجارت، سرمایہ کاری اور کراچی کی ثقافت میں دلچسپی
کراچی میں اپنی تعیناتی کے دوران، ڈوم نے برطانیہ اور پاکستان کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، "ہماری پاکستان اور برطانیہ کے درمیان پہلے ہی $60 ارب سالانہ تجارت ہے، اور ہم اسے مزید بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔"
انہوں نے کراچی کے مشہور کھانوں کے ذائقے سے لطف اندوز ہونے کا بھی ذکر کیا، البتہ انہوں نے اعتراف کیا کہ پاکستانی کھانے ان کے لیے کافی مسالے دار ہیں۔ "یہ میرے ذائقے کے لحاظ سے تھوڑا زیادہ مسالے دار ہے، لیکن وقت کے ساتھ میں اس کا عادی ہو جاؤں گا۔"
کراچی میں کھیلوں کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا ارادہ
ایک کھیلوں کے شوقین کے طور پر، ڈوم نے بتایا کہ وہ ٹینس اور فٹ بال کے دلدادہ ہیں اور کراچی میں کھیلوں کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے خواہشمند ہیں۔ انہوں نے کہا، "میں اگلے سال کراچی ہاف میراتھن میں حصہ لینے کی امید کر رہا ہوں۔"
برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر کا یہ مثبت بیان پاکستان میں کھیلوں کی سفارتکاری کے فروغ اور کرکٹ کے ذریعے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
Comments
Post a Comment