طورخم بارڈر مسلسل پانچویں روز بند، تجارتی اور سفری سرگرمیاں معطل

 





طورخم بارڈر مسلسل پانچویں روز بند، تجارتی اور سفری سرگرمیاں معطل
بارڈر کی بندش سے 1.2 کروڑ ڈالر کا تجارتی نقصان، ہزاروں افراد پھنس گئے


لنڈی کوتل: پاکستان اور افغانستان کے درمیان واقع طورخم بارڈر مسلسل پانچویں روز بھی بند رہا، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سفری سرگرمیاں مکمل طور پر معطل ہوگئی ہیں۔

بارڈر کی بندش سرحدی علاقے میں تعمیراتی تنازع کے سبب ہوئی، جس کے نتیجے میں سرحد پار آمد و رفت شدید متاثر ہوئی ہے۔

تجارتی نقصان اور متاثرین
کسٹمز حکام کے مطابق، گزشتہ چار دنوں میں تجارتی سرگرمیوں کی بندش کے باعث تقریباً 1.2 کروڑ ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ امیگریشن حکام کا کہنا ہے کہ روزانہ تقریباً 10,000 افراد اس بارڈر کو عبور کرتے ہیں، تاہم حالیہ بندش کے باعث ہزاروں افراد دونوں اطراف پھنس گئے ہیں۔

سرحد کھلوانے کے لیے مذاکرات جاری
طورخم کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے صدر، مجیب خان شنواری نے بتایا کہ پاکستانی اور افغان حکام کے درمیان کئی مرتبہ مذاکرات ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسٹمز کلیکٹر متین عالم بھی ان مذاکرات میں شریک تھے اور امید ظاہر کی کہ جلد ہی بارڈر کھولنے پر اتفاق ہو جائے گا۔

مزدور اور تاجر شدید متاثر
بارڈر کی بندش کے باعث مقامی تاجر اور دیہاڑی دار مزدور سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ایک تاجر قاری نظیم گل نے بتایا کہ تقریباً 800 مزدور روزانہ کی بنیاد پر اپنی روزی روٹی کے لیے اس کراسنگ پر انحصار کرتے ہیں، لیکن کئی دنوں سے بارڈر بند ہونے کے باعث وہ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

کشیدگی کی اصل وجہ
طورخم بارڈر 22 فروری (ہفتہ) کو بند کر دیا گیا تھا جب پاکستانی اور افغان فورسز کے درمیان زیرو پوائنٹ کے قریب ایک بنکر کی تعمیر پر تنازع کھڑا ہو گیا تھا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، افغان فورسز نے سرحدی حدود میں ایک متنازعہ علاقے میں بنکر تعمیر کرنے کی کوشش کی، جس پر پاکستان کی فرنٹیئر کور (ایف سی) نے فوری ردعمل دیا۔

اس صورتحال کے بعد دونوں ممالک کی افواج نے اپنی پوزیشنیں مزید مستحکم کر لی ہیں، جبکہ پاکستانی حکام نے احتیاطی تدابیر کے طور پر کسٹمز، امیگریشن اور پولیس اہلکاروں کو طورخم بازار سے لنڈی کوتل منتقل کر دیا ہے۔ اس کشیدگی کے باعث کسی ممکنہ مسلح تصادم کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔

اقتصادی نقصانات اور بار بار کی بندش
طورخم سرحد ایک اہم تجارتی راستہ ہے جو اکثر مختلف وجوہات کی بنا پر بندش کا شکار رہتا ہے، جس سے دونوں ممالک کی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں۔



Comments

Popular posts from this blog

محمد عامر کی ایک بار پھر کاؤنٹی کرکٹ میں واپسی امیدیں اور خدشات

سوڈان میں اخوان المسلمون کی پابندی: ریاستی استحکام کے لیے ایک تاریخی فیصلہ

ٹرمپ کی کامیابی کا راز: خلیجی اتحادیوں کا تحفظ کیوں ضروری ہے؟