سینٹ میں پی کے اے ترمیمی بل کی منظوری، اپوزیشن کا شدید احتجاج اور صحافتی تنظیموں کا احتجاجی اعلان

 





حکومت کا پی کے اے (Peca) ترمیمی بل سینٹ میں منظور، اپوزیشن کا شدید احتجاج

وزیر قانون نے 'ڈیجیٹل نیشن پاکستان' بل بھی پیش کیا، اپوزیشن نے شدید اعتراضات کیے

اسلام آباد: قومی اسمبلی کے بعد، پی کے اے (Peca) ترمیمی بل سینٹ میں بھی منظور کر لیا گیا، تاہم اس دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور متعدد ارکان نے واک آؤٹ کیا۔

یہ بل وفاقی وزیر، رانا تنویر حسین نے سینٹ میں پیش کیا، جنہوں نے وضاحت کی کہ یہ بل سوشل میڈیا کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ہے، اور اس کا مقصد ٹی وی اور اخبار کے صحافیوں کے خلاف نہیں ہے۔ تاہم، حزب اختلاف نے اس بل کو آزادی اظہار رائے کے خلاف قرار دیتے ہوئے شدید مخالفت کی۔

آئیمال ولی کا احتجاج

این پی کے آئیمال ولی نے اس بل کو "ظالمانہ قانون" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے آزادی اظہار رائے پر پابندیاں لگیں گی۔ انہوں نے اس کے بعد اپنے پارٹی کے دیگر ارکان کے ہمراہ سینٹ سے واک آؤٹ کیا۔ اس موقع پر صحافیوں نے بھی سینٹ گیلری سے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔

شہری آزادی کے تحفظ کی تحریک

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کے صدر افضال بٹ نے کہا کہ یہ دن پاکستان کی جموکری، میڈیا، شہری آزادیوں اور آزادیِ اظہار کے لیے سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک احتجاج نہیں، بلکہ صحافت کی آزادی کی تحریک کا آغاز ہے، جو اس قانون کے واپس لیے جانے تک جاری رہے گی۔

اپوزیشن کا موقف

سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے کہا کہ حکومت نے اس بل کو بغیر کسی مشاورت کے منظور کیا، اور ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے قوانین کا پاس ہونے سے پہلے تمام متعلقہ فریقین کو شامل کیا جانا چاہیے تھا۔ جے یو آئی کے کامران مرتضیٰ نے بھی اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ سٹینڈنگ کمیٹی رپورٹ میں ان کی ترامیم کو نہ تو مسترد کیا گیا اور نہ ہی منظور کیا گیا۔

ڈیجیٹل نیشن پاکستان بل کی منظوری

سینٹ میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے "ڈیجیٹل نیشن پاکستان بل 2024" بھی پیش کیا، جس کا مقصد پاکستان کی حکومت اور معیشت کو ڈیجیٹلی مزید ترقی دینا ہے۔ تاہم، اس بل کے حوالے سے بھی اپوزیشن نے تحفظات ظاہر کیے، اور جے یو آئی کے مرتضیٰ نے اس پر ترامیم پیش کیں جو قانون کے وزیر کی مخالفت کے بعد مسترد کر دی گئیں۔

احتجاج اور آئندہ اقدامات

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کی جانب سے پورے ملک میں احتجاج کا اعلان کیا گیا، جس میں کراچی، پشاور، کوئٹہ، لاہور اور اسلام آباد میں مظاہرے شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ احتجاج روزانہ کی بنیاد پر جاری رہے گا، اور کل (بدھ) ان کی اگلی حکمت عملی کا اعلان کیا جائے گا۔

خلاصہ

حکومت نے پی کے اے ترمیمی بل اور ڈیجیٹل نیشن پاکستان بل کی منظوری دے دی، جس پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور اس بل کو آزادی اظہار رائے کے لیے خطرہ قرار دیا۔ صحافتی تنظیموں نے اس قانون کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کیا ہے، جو اس بل کے واپس لینے تک جاری رہیں گے۔

Comments

Popular posts from this blog

محمد عامر کی ایک بار پھر کاؤنٹی کرکٹ میں واپسی امیدیں اور خدشات

سوڈان میں اخوان المسلمون کی پابندی: ریاستی استحکام کے لیے ایک تاریخی فیصلہ

ٹرمپ کی کامیابی کا راز: خلیجی اتحادیوں کا تحفظ کیوں ضروری ہے؟