سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ کا بینچ تشکیل پر اعتراض
اسلام آباد: سپریم کورٹ کے سینئر پویسنے جج جسٹس منصور علی شاہ نے ایک کیس میں چھ رکنی لارجر بینچ کی تشکیل پر اعتراض اٹھایا ہے۔ یہ بینچ اضافی رجسٹرار (جوڈیشل) نذر عباس کے شوکاز نوٹس کے خلاف دائر انٹرا کورٹ اپیل (ICA) کی سماعت کرے گا۔
جسٹس منصور علی شاہ کا اعتراض
جسٹس شاہ نے جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر کی بینچ میں شمولیت پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ججز اس کمیٹی کے رکن ہیں جس نے پہلے ہی اس کیس پر غور کیا تھا۔
> "جن ججز کا اس معاملے میں مفادات کا ٹکراؤ ہو، وہ بینچ کا حصہ نہیں بن سکتے،" جسٹس شاہ نے اپنے خط میں لکھا۔
کیس کا پس منظر
یہ کیس اضافی رجسٹرار نذر عباس کے خلاف دائر توہین عدالت کے نوٹس سے متعلق ہے، جن پر الزام تھا کہ انہوں نے **کسٹم ایکٹ 1969** کو چیلنج کرنے والے کیسز غلط طور پر سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے سامنے رکھے۔
بعد ازاں، جسٹس شاہ اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے نذر عباس کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کیا۔ عباس نے اس کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کرتے ہوئے عدالت سے استدعا کی کہ فیصلہ آنے تک توہین عدالت کی کارروائی کو روکا جائے۔
چھ رکنی بینچ کی تشکیل
سپریم کورٹ نے اس اپیل کی سماعت کے لیے جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں چھ رکنی بینچ تشکیل دیا، جس میں جسٹس مظہر، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید، اور جسٹس مسرت ہلالی بھی شامل ہیں۔
جسٹس شاہ کے تحفظات
جسٹس شاہ نے اس بینچ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا:
> "جسٹس مندوخیل اور جسٹس مظہر اس بینچ کا حصہ نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ کمیٹی کے رکن ہیں جن کے فیصلے توہین عدالت کی کارروائی میں زیر بحث ہیں۔"
مشاورت کا فقدان
جسٹس شاہ نے دعویٰ کیا کہ بینچ کی تشکیل کے حوالے سے ان سے مشاورت نہیں کی گئی اور انہیں رات کو واٹس ایپ کے ذریعے اطلاع دی گئی۔
انہوں نے مزید کہا:
> "رات 10:28 بجے مجھے اطلاع ملی کہ بینچ تشکیل پا چکا ہے اور روٹر جاری کر دیا گیا ہے، جبکہ میں نے واضح کیا تھا کہ اس معاملے پر کچھ اعتراضات ہیں۔"
نتیجہ
جسٹس منصور علی شاہ نے مطالبہ کیا کہ ان کے اعتراضات کو 23 جنوری 2025 کے کمیٹی کے فیصلے کے ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔
### کلیدی الفاظ
سپریم کورٹ، جسٹس منصور علی شاہ، لارجر بینچ، نذر عباس، توہین عدالت، انٹرا کورٹ اپیل، شوکاز نوٹس، کسٹم ایکٹ 1969۔
Comments
Post a Comment