غیر قانونی ہجرت: اسپین جانے کی کوشش میں پاکستانیوں کی کشتی حادثے کا شکار
غیر قانونی ہجرت: اسپین جانے کی کوشش میں پاکستانیوں کی کشتی حادثے کا شکار
پاکستانی شہریوں کی غیر قانونی ہجرت کی کوشش ایک بار پھر ایک المناک حادثے میں بدل گئی، جب مغربی افریقہ سے اسپین جانے والی کشتی سمندر میں حادثے کا شکار ہو گئی۔ کشتی میں 86 افراد سوار تھے، جن میں 66 پاکستانی شامل تھے۔
حادثے کی تفصیلات
2 جنوری کو موراکو کے علاقے داکلہ کے قریب کشتی روانہ ہوئی تھی، تاہم انسانی حقوق کی تنظیم Walking Borders نے 12 جنوری کو کشتی کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی۔ موراکن حکام نے 36 افراد کو بچا لیا، لیکن 50 افراد کے ڈوبنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
کشتی میں موجود پاکستانیوں کے رشتہ داروں نے بتایا کہ انسانی اسمگلرز نے اضافی رقم کے لیے مسافروں کو سمندر میں لنگر انداز رکھا، جس کے باعث یہ واقعہ پیش آیا۔
پاکستانی حکومت کی جانب سے اقدامات
وزارت خارجہ نے متاثرہ پاکستانیوں کے لیے داکلہ میں ایک سفارتی ٹیم روانہ کر دی ہے تاکہ ہر ممکن مدد فراہم کی جا سکے۔ مزید برآں، وزارت کے کرائسز مینجمنٹ یونٹ کو فعال کر دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری نے حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور انسانی اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات کا عزم ظاہر کیا۔
غیر قانونی ہجرت کے خطرات
2024 کے دوران غیر قانونی ہجرت کے دوران 10,457 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جن میں زیادہ تر افریقی ممالک سے اسپین کے کینری جزائر جانے والے افراد شامل تھے۔
عوام سے اپیل
حکومت پاکستان عوام سے اپیل کرتی ہے کہ انسانی اسمگلرز کے جھوٹے وعدوں پر یقین نہ کریں۔ غیر قانونی ہجرت کے ذریعے سفر کرنا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ افسوسناک واقعہ انسانی اسمگلنگ کی سنگینی اور غیر قانونی ہجرت کے خطرات کو واضح کرتا ہے۔ ضروری ہے کہ لوگ قانونی طریقوں سے سفر کریں اور اپنی جانوں کو خطرے میں نہ ڈالیں۔
Comments
Post a Comment