غیر ملکی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی تعداد: نصف سعودی عرب میں قید
غیر ملکی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی تعداد: نصف سعودی عرب میں قید
پاکستانی قیدیوں کے حوالے سے ایک اہم انکشاف ہوا ہے کہ تقریباً 20,000 پاکستانی غیر ملکی جیلوں میں قید ہیں، جن میں سے نصف سعودی عرب میں مختلف جرائم کے تحت قید کاٹ رہے ہیں۔
سعودی عرب میں پاکستانی قیدیوں کی تعداد
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ سعودی عرب میں 10,279 پاکستانی قیدی مختلف جرائم کے تحت جیلوں میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے ایک معاہدے کے تحت 570 قیدیوں کو پاکستان منتقل کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
غیر ملکی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی مجموعی تعداد
وزارت خارجہ کے اعداد و شمار کے مطابق، دنیا بھر کی جیلوں میں 19,997 پاکستانی قید ہیں۔ ان قیدیوں میں سے 5,292 متحدہ عرب امارات، 598 یونان، 578 عمان، 463 ملائیشیا، 387 ترکی، اور دیگر ممالک میں ہیں۔
جرائم کی نوعیت
قیدیوں پر مختلف الزامات ہیں جن میں غیر قانونی امیگریشن، پاسپورٹ کی مدت ختم ہونے کے بعد قیام، قتل، منشیات کی اسمگلنگ، بغیر ورک پرمٹ کام کرنا، جنسی زیادتی، انسانی اسمگلنگ، چوری، جعلسازی، منی لانڈرنگ، جاسوسی، اور سائبر کرائم شامل ہیں۔
قیدیوں کی واپسی کے اقدامات
اسحاق ڈار نے بتایا کہ قیدیوں کی سزا پوری ہونے کے بعد انہیں ہنگامی سفری دستاویزات فراہم کی جاتی ہیں تاکہ وہ وطن واپس آ سکیں۔ پاکستانی کمیونٹی جرمانے ادا کرکے قیدیوں کی رہائی میں مدد فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قیدیوں کی واپسی کے عمل میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔
سعودی عرب اور دیگر ممالک میں پاکستانی قیدیوں کی صورتحال
سعودی عرب پاکستانی قیدیوں کی سب سے زیادہ تعداد کے ساتھ سر فہرست ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات دوسرے نمبر پر ہے۔ دیگر ممالک میں بھی قابل ذکر تعداد میں پاکستانی قیدی موجود ہیں، جن پر مختلف نوعیت کے جرائم کے الزامات ہیں۔
نتیجہ
پاکستانی قیدیوں کی بڑی تعداد بیرون ملک جیلوں میں ایک اہم مسئلہ ہے، جس کے حل کے لیے حکومت اور پاکستانی سفارتی مشنز کو مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ان قیدیوں کی بحالی اور واپسی پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کا ایک اہم پہلو ہے۔
کلیدی الفاظ:
پاکستانی قیدی، سعودی عرب، غیر ملکی جیلیں، پاکستانی سفارتخانے، قیدیوں کی واپسی، منشیات اسمگلنگ، غیر قانونی امیگریشن، پاکستانی وزارت خارجہ، قیدیوں کی تعداد۔
Comments
Post a Comment