سندھ کے وزیر تعلیم کا تعلیمی نظام میں "نمبرز کی دوڑ" ختم کرنے پر زور
سندھ کے وزیر تعلیم کا تعلیمی نظام میں "نمبرز کی دوڑ" ختم کرنے پر زور
کراچی: سندھ کے وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے تعلیمی نظام میں طلبہ کی توجہ "نمبرز کی دوڑ" سے ہٹا کر تعلیم کے عمل پر مرکوز کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔
معیاری جائزے کی اہمیت
کراچی میں وفاقی وزارت تعلیم کے زیرِ اہتمام انٹر بورڈ کوآرڈینیشن کمیشن (IBCC) کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیر تعلیم نے کہا:
"امتحانی بورڈز میں معیاری جائزہ نظام کی ضرورت ہے، بجائے اس کے کہ صرف نمبرات کی بنیاد پر فیصلے کیے جائیں۔"
انہوں نے مزید کہا کہ اس سال امتحانات نہ صرف طلبہ بلکہ بورڈز کے اپنے نظام کی آزمائش بھی ہوں گے۔ یہ اندازہ لگایا جائے گا کہ کیا مستقبل میں نجی شعبے کی مدد سے تھرڈ پارٹی اسسمنٹ کروائی جائے۔
یونیورسٹی داخلوں میں بورڈ کی شرح ختم کرنے کی تجویز
سید سردار علی شاہ نے یونیورسٹی داخلوں میں بورڈ فیصد کی شرط ختم کرنے کی تجویز پیش کی تاکہ طلبہ رٹا لگانے کے بجائے تعلیم کے اصل مقصد پر توجہ دے سکیں۔
ٹیکنالوجی کا استعمال اور تعلیمی نظام کی بہتری
وزیر تعلیم نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال تھرڈ پارٹی اسسمنٹ کے لیے ضروری ہے۔ بہتر اسسمنٹ تعلیمی نظام میں بہتری لا سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت وفاقی حکومت کے ہر اچھے اقدام کی حمایت کرتی ہے لیکن تعلیم کے شعبے میں مزید تعاون کی ضرورت ہے۔
اسکولز کی بحالی اور مالی مشکلات
وزیر تعلیم نے انکشاف کیا کہ وفاقی حکومت نے سندھ کو 5 ارب روپے اسکولوں کی بحالی کے لیے فراہم کیے ہیں۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ سندھ کی یونیورسٹیوں کو درپیش مالی مشکلات کے پیش نظر گرانٹس میں اضافہ ہونا چاہیے۔
اسکول سے باہر بچوں کا مسئلہ
سید سردار علی شاہ نے اسکول سے باہر بچوں کے مسئلے کو حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا اور کہا کہ اس کی جڑ غربت ہے، جس پر قابو پانے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔
کلیدی الفاظ:
تعلیم میں نمبرز کی دوڑ، معیاری اسسمنٹ، سندھ وزیر تعلیم، تھرڈ پارٹی اسسمنٹ، یونیورسٹی داخلے، تعلیمی نظام میں بہتری، اسکولز کی بحالی، اسکول سے باہر بچے، وفاقی تعاون۔
Comments
Post a Comment